فلور ملز کا سرکاری غیرمعیاری گندم اٹھانے سے انکار
By Technology Times at March 21, 2011 | 11:55 am | PrintA- Reset A+
کراچی(نیوز رپورٹر) فلور ملز مالکان نے سرکاری گندم اٹھانے سے انکار کر دیا ہے ۔ ملز مالکان کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم جلی ہوئی، غیر معیاری اور بدبودار ہے اور اس سے آٹا نہیں بنایا جائے گا۔ فلور ملز مالکان کے اس بیان کے بعد محکمہ خوراک آٹے کی قیمت میں اضافہ روکنے میں نہ کام نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملز مالکان آٹے کی قیمتوں میں اپنی مرضی سے اضافہ کر رہے ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لئے صوبائی سیکرٹری خوراک نصیر جمالی سے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل کے چیئرمین میاں حسن محمودکی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری خوراک نصیرجمالی نے فلور ملزمالکان کومعیاری گندم کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ فلور ملزمالکان محکمہ خوراک سے تعاون کریں۔ جس پر فلور ملز مالکان نے بھرپورتعاون کی یقین دہانی کرانے کے ساتھ سرکاری گندم اٹھانے اورآٹا کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ صوبے میں تقریباً پونے تین لاکھ ٹن گندم کے ذخائر ہیں جو نئی فصل آنے تک کے لیے کافی ہیں۔فلور ملزمالکان گھوٹکی اور لاڑکانہ سے بھی گندم لاسکتے ہیں۔بعدازں فلور ملز مالکان سیکرٹری خوراک نصیرجمالی سے کیے گئے وعدے سے منحرف ہوگئے ہیں اور کہا کہ سیکرٹری خوراک نصیرجمالی کے سامنے کسی بات کی یقین دہانی نہ کرنے پرمحکمہ خوراک ہمارے خلاف کارروائی کرسکتا ہے لیکن فلورملز مالکان نے فیصلہ کیا ہے کہ مضحر صحت، غیرمعیار ی،بدبوداراورجلی ہوئی گندم فلورملزمالکان نہیں اٹھائیں گے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ فلورملز مالکان پنجاب سے سوکلوگندم کی بوری کی خریداری 2850 روپے میں کریں گے اور اس کے بعد ڈھائی نمبر چکی آٹے کی 50 کلو کی بوری کی قیمت 1610 روپے ہوگی۔فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ نئی فصل آنے تک آٹے کی قیمت میں کمی کا امکان نہیں ہے۔دریں اثناءمحکمہ خوراک کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرعظیم الرحمن نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلورملزمالکان اگر اپنے وعدے پورے نہیں گریں گے تو ان کے خلاف قانونی ککارروائی کی جائے گی۔






