web analytics

Categories

بائیو گیس پلانٹ : وقت کی اہم ضرورت

By at May 21, 2011 | 3:10 pm | PrintA- Reset A+

بائیو گیس پلانٹ : وقت کی اہم ضرورت

 

نگار علی

دنیا میں پائیدار اقتصادی ترقی اور انسانیت کی بقاءکے لیے ماحول کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ پاکستان کو فضائی آلودگی، جنگلات کے کٹاﺅ ، صاف پانی کی قلت، موسم کی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان میں بجلی اور گیس کی کمی نے عوام کو بہت پریشان کیا ہے، گزشتہ چند سال سے بجلی اور گیس کی کمی کو برداشت کرنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ بجلی اور گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے خود عوام کو ہی انتظام کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں بعض لوگوں نے عارضی جنریٹرز لگا لئے ہیں اور بعض لوگ توانائی کے متبادل ذرائع مثلاً شمسی توانائی، پن چکی یا بائیوگیس استعمال کررہے ہیں۔
بائیو گیس پلانٹ جانوروں کے فضلے سے گیس کی شکل میں ماحول دوست ایندھن اور بہترین نامیاتی کھاد پیدا کرنے کا آسان ذریعہ ہے۔ بائیو گیس جانوروں کے فضلے سے گیس کی عدم تخمیر سے پیدا ہوتی ہے۔ ےہ میتھین کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈروجن وغیرہ کا مرکب ہے۔ اس کا اہم جزو میتھین گیس ہے۔ یہ گیس بے بو ہے اور بغےر دھواں پیدا کیے جلتی ہے۔
بائیو گیس، نامیاتی مرکبات سے آکسیجن کی غیر موجودگی میں پیدا ہونے والی گیس ہے جو استعمال میں معدنی گیس کی خصوصیات رکھتی ہے۔ بائیو گیس پیدا ہونے کے بعد جو فضلہ بائیو گیس سے خارج ہوتا ہے اس میں نائیٹروجن کے علاوہ فاسفیٹ، پوٹاشیم اور دیگر اہم نامیاتی اجزاءہوتے ہیں، جو زمینوں کی دائمی طاقت، نرمی اور فصلوں کی صحت مند نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ نامیاتی کھاد کیمیاوی کھاد کا بہترین نعم البدل ہے اور اس کے مضر اثرات کو زائل کرنے کا موثر ترین ذریعہ ہے۔
بائیو گیس کھانے پکانے، روشنی حاصل کرنے، استری اور پنکھا چلانے کے کام آتی ہے اس کے علاوہ بائیو گیس سے جنریٹر بھی چلایا جاسکتا ہے جو بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بائیو گیس کوئی نئی ایجاد نہیں ہے یہ کئی دہائیوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں زیر استعمال ہے۔ وقت کے ساتھ باقی دنیا میں بائیو گیس کی پیداوار کو فوقیت ملی ہے اور اس کے طریقوں میں بھی جدت آئی ہے لیکن پاکستان میں محض اس کے راویتی طریقہ پیداوار پر ہی توجہ دی گئی۔

پاکستان کونسل فار ری نیو ایبل انرجی ٹیکنولوجی نے متبادل ذرائع توانائی کے فروغ کے لیے ملک بھر میں تین ہزار سے زائد بائیو گیس کے روایتی پلانٹ تنصیب کیے ہیں جو گھریلو سطح پر گیس کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ لیکن اس سرکاری مہم میں گیس پیدا کرنے کے لیے گائے بھینسوں کا گوبر استعمال ہوتا ہے۔ سرکاری بائیو گیس پلانٹ کے حصول کے لیے صارف کے گھر میں چار یا پانچ بھینسوں کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ یہ طریقہ دیہاتی علاقوں میں ہی قابلِ عمل ثابت ہوتا ہے۔
بائیو گیس پلانٹ توانائی حاصل کرنے کا جدید، دھوئیں سے پاک اور سستا ذریعہ ہے۔ اس پلانٹ کی وجہ سے اندرون خانہ ہوائی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آتی ہے، پلانٹ کے استعمال سے قدرتی وسائل کا احسن طریقے سے استعمال بھی کیاجا سکتا ہے۔
بائیو گیس کے پلانٹ کے استعمال سے ماحول بھی صاف رہتا ہے نیز بچوں اور عورتوں میں سانس اور آنکھوں کی ہونے والی بیماریوں میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔ اس پلانٹ کی بدولت کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی بہت حد تک کمی واقع ہوتی ہے۔ چونکہ بائیو گیس پلانٹ توانائی کا بہترین نعم البدل ہیں جس کے ذریعے روزمرہ کھانا پکانے جیسے کام بآسانی انجام دیئے جاسکتے ہیں اسلئے اس کے استعمال سے جنگلات بھی محفوظ رہتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں توانائی کے حصول کا اہم اور بنیادی ذریعہ ’گوبر‘ ہے‘ جس میں ایک حصہ بھوسے کی آمیزش کر کے بنائے گئے تھالی نما گول ٹکڑوں کو دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں گوبر کے یہ ٹکڑے دیواروں پر چسپاں دکھائی دیتے ہیں۔
صحت کے نکتہ نظر سے گوبر کے ان ٹکڑوں کی تیاری کے مراحل چونکہ ہاتھوں سے سرانجام دیئے جاتے ہیں اس لئے ان سے جڑے کئی مسائل بھی ہیں جیسا کہ سانس کی بیماریاں یا نظام تنفس کی کمزوری اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی وغیرہ۔ گوبر کے خشک ٹکڑوں کے استعمال کی بجائے اگر ’بائیو گیس‘ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو اس سے زیادہ بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
بائیوگیس پلانٹ سے پانچ مکعب میٹر گیس حاصل کرنے کےلئے کم از کم پانچ بھینسیں یا دس گائے درکار ہوتے ہیں، بھینس کے ایک کلو گوبر اور ایک کلو پانی، جبکہ گائے کے ایک کلو گوبر کو ڈیڑھ کلو پانی کے ساتھ ملا کر آمیزہ تیار کیا جاتا ہے جس کو تبخیر کےلئے پہلی دفعہ پندرہ سے سترہ دن کےلئے خاص طرز کے تیار کردہ ٹینک میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد روزآنہ کی بنیاد پر اس ٹینک میں گوبر ڈالا جاتا ہے جس سے بائیوگیس بنتی رہتی ہے۔ پانچ مکعب میٹر گیس ایک اوسط گھرانے کی روزمرہ کی گیس کی ضروریات کےلئے موزوں ہوتی ہے۔
صاف ستھری توانائی کے حصول کے ساتھ بائیو گیس پلانٹ سے اعلیٰ معیار کی کھاد بھی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن چونکہ بائیو گیس منصوبے کے آغاز کے لئے زیادہ مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے حکومت کی سرپرستی کے بناءیہ جدید ٹیکنولوجی اختیار کرنے کا رجحان کم ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف انجنیئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنولوجی کے ذہین طالبعلموں نے بائیو گیس سے تجرباتی طور پر بجلی پیدا کرنے کا تجربہ کیا ہے‘ اگر حکومت یا نجی شعبہ اس سلسلے میں طالبعلموں کی سرپرستی کرے تو ایندھن کے موجودہ بحران میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

نقطہ نظر , , , , , , , , ,

  • aziz

    zabardast g