گریفین۔ ایک معجزاتی مادہ
By admin at July 2, 2011 | 6:00 pm | PrintA- Reset A+
گنے چنے عناصر میں سے ایک ہے جن سے انسان ک واقفیت اور آشنائی زمانہ قدیم سے ہے۔ یہ دوسرے کیمیائی عناصر یعنی ہائیڈروجن، ہیلیئم اور اوکسیجن کے بعد بلحاظ کمیت کائنات میں سب سے وافر مقدار میں پایا جانے والا عنصر ہے۔ اسے روئے زمین پر زندگی کا ایک اہم اور لازمی جز نصور کیا جاتا ہے اور انسانی جسم میں بھی اوکسیجن کے بعد اس کی مقدار سب سے زیادہ تقریباً اٹھارہ عشاریہ پانچ فیصد ہے۔ کاربن بہت سے بہروپی اشکال میں بھی ملتا ہے جن میں ہیرا اور گریفائیڈ نمایان طور پر جانی جاتی ہیں۔ہیرا انتہائی شفاف اور سخت جبکہ گریفائیڈ دھندلا اور تاریک لیکن نرم ہوتا ہے۔کارب کی یہ کثرت عام درجہ حرارت پر کثیر سالمی مرکب بنانے کی غیر معمولی صلاحیت اسے کیمیائی اور حیاتیاتی زندگی کا ایک لازمی جز بنا دیتی ہے۔
کاربن نے پچھلی دہائی میں ایک بار پھر ہمیں ورطہءحیرت میں ڈال دیا جن سائنسدان اور محقیقین گریفائیڈ کی مدد سے اس کی ایک بالکل نئی، منفرد اور اچھوتی شکل وضع کرنے میں کامیاب ہو گئے جسے گریفین کا نام دیا گیا۔ یاد رہے کہ 2010ءمیں طبیعیات کا نوبل انعام دو روسی نژاد برطانوی سائنسدانوں اینڈرے جیئم اور کونسٹینٹن نووو سیلوو کو ان کی گریفین کے حوالے سے شاندار کدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔گریفین دراصل کاربن کے بہروپ گریفائت کی ایک انتہائی باریک تہہ ہے جس کی موٹائی صرف اور صرف ایک ایتم کے برابر ہے۔ گویہ نہایت پتلے چھلکے کی مانند ہے مگر حیرت انگیز طور پر اس کی مصبوطی فولاد سے سو گنا زیادہ ہے۔
گریفین، ہلکا، مضبوط اور لچکدار ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی سستا اور با آسانی دستیاب ہے۔ اسے گریفائٹ جو عام پینسل کے سکے میں پایا جاتا ہے، دائمی چبکنے والے فیتے کی مدد سے تہہ در تہہ علیحدہ کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسکول کا بچہ اسے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن سائنسی ترقی کا عمل بعض اوقات کتنا حیران کن ہوتا ہے کہ گریفین جیسا سستا اور حیرت انگیز مادہ 2004ءمیں دریافت کیا جا سکا۔
ان حیران کن خوبیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انسان ذہن میں سوال اٹھاتا ہے کہ ایک عام پنسل کے سکے میں موجود گریفائٹ سے اس انتہائی مفید اور کارآمد مادے گریفین کو پہلے کیوں حاصل نہ کیا جا سکا؟ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ موجودہ دور سے پہلے کسے خبر تھی کہ یہ بظاہر معمولی مواد کتنی کرشماتی کوبیوں کا حامل ہو سکتا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ سائنسدانوں نے اس سے ملتے جلتے باریک تہہ والے مواد بنانے کی کئی کوششیں ضرور کیں لیکن پختہ اور پائیدار نہ ہونے کی وجہ سے وہ بمشکل ہی کوئی مضبوط پرت بنانے میں کامیاب ہو سکے۔
محقیقین نے پتہ چلایا ہے کہ گریفین میں موجود الیکٹرون کی فرتار انتہائی تیز ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی ایصالیت یعنی برقی رو گزارنے کی طاقت کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کپڑوں کو گریفین کی مدد سے رنگنے کے بعد اس میں برقی چارج کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس طرح گریفین میںجمع ہونے والی معلومات کی مدد سے کسی بھی انسان کے جسمانی افعال پر نظر قطعاًمشکل نہیں رہے گااور اسی طرح موبائل فون کو جیب میں رکھے ہوئے ہی چارج کیا جا سکے گا۔کاربن کی اس نئی شکل کو پلاسٹک کے ساتھ ملا کر ایسا مواد تیار کیا جا سکتا ہے جو دوران استعمال برقی آلات کو زیادہ حدت سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نیم موصل سرکٹس، کمپیوٹر کے آلات، شفاف ٹچ اسکرین اور شمسی سیلز کی تیاری کے لیئے نہایت موزوں گردانا گیا ہے۔
نوبل انعام یافتہ پروفیسر جیئم کا کہنا ہے کہ گریفین صرف ایک خاص مواد ہے بلکہ ہپ مواد کا ایک بڑا سلسلہ ہے۔ اس کا موازنہ ہم پلاسٹک سے کر سکتے ہیں جس کی مختلف اشکال کوکیمیائی مادوں کے ساتھ ملا کر با آسانی استعمال کیا جا سکتا ہے مثلاً پولی تھین، نائیلون اورٹیفلون یہ سب پلاسٹک ہی کی تو مختلف شکلیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے گریفین کی حیرت انگیز خوبیاں منظر عام پر آئی ہیں سائنسدانوں کا ایک انبوہ اس سے متعلق منصوبوں پر کام کرنے کے لئے بے تاب ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک قریباً 200 کمپنیوں نے گرافین کی اہمیت کو جانتے ہوئے اس پر تحقیق کا آغاز کر دیا ہے۔
سام سنگ نے سنگخران یونیورسٹی کے باہمی اشتراک سے ایک پچیس انچ لچکدار ٹچ اسکرین بنائی ہے، اس کے علاوہ آئی بی ایم نے اپریل 2011ءمیں اعلان کیا ہے کہ وہ گریفین کے ساتھ دنیا کا سب سے تیز رفتار ریڈیو فریکونسی ٹرانسمیٹر، جس کی رفتار ایک سو پچپن کیگا ہرٹز ہے، تیار کر چکی ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان میں سائنسی علوم کو فروغ دینے کے لئے کوشاں خوارزمی سائنس سوسائٹی اور شعبہ طبیعات لمز کے زیر اہتمام گریفین فزکس کے عنوان سے لیکچر سیریز کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ اور محقیقین کو کو گریفین اور اس کے حیران کن چشم مظاہرے سے روشناس کرانا اور عالم تحقیق میںاس موضوع پر آئے روز نت نئی دریافتوںکا احاطہ کرنا تھا۔ اس موقع پر ملک کے مایہ ناز سائنسدانوں اور ماہر طبیعات پروفیسر ڈاکتر ریاض الدین اور ڈاکٹر کاشف صبیح نے بڑے جامع اور پر اثر انداز میں اس موضوع کے مختلف پہلوﺅں پر روشنی ڈالی۔ ملک بھر کی جامعات سے شرکت کرنے والے طلبائ، اساتذہ اور محقیقین نے خوارزمی سائنس سوسائٹی کی اس کاوش کو سراہا اور ملک میں سائنسءتعلیم اور تحقیق کے رجحان کو فروغ دینے میں سوسائتی کی خدمات کی تعریف کی۔ پروگرام کے اختتام پر حاضرین میں اسناد تقسیم کی گئیں۔













