خدا نہ کرے کہ۔۔۔
By Technology Times at November 26, 2011 | 2:32 pm | PrintA- Reset A+
راوی کہتا ہے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا اور پاکستان میں بسا اوقات ایسا ہی ہوتا ہے اور اب تو عوام اس بات کی اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ اگر وعدہ وفا ہو جائے تو تعجب ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات وعدہ کا وفا ہونا بھی ملکی یاعوامی مفادات کے منافی ہو جاتا ہے۔
حال ہی میں حکومت کی جانب سے لاہور شہر میں سی این جی بس سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ متذکرہ 110 سی این جی ایئر کنڈیشنڈ بسوں کے علاوہ مزید 200 بسوں کے حصول کے لئے معاہدہ طے پا چکا ہے جبکہ حکومتی منصوبہ بندی کے تحت کل 700 بسوں کو صوبے کے مختلف شہروںمیں چلایا جائے گا۔
سیاسی جمع و تفریق کے لحاظ سے دیکھنا تو الگ بات ہے لیکن اگر سادہ انداز میں ہی سوچا جائے تو حکومت کا یہ قدم جہاں خوش کن ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ فکر انگیز بھی کہ رادھا کے ناچنے کے لئے نو من تیل کی شرط ہے اور یہاں تو عملی طور پر سی این جی بسوں کا تیل یعنی سی این جی ندار تو ایسے میں بسیں چلیں گی کیسے؟
ملک میں گزشتہ چند سال سے جاری گیس کی قلت نے جہاں گھریلو شعبے کو پریشان کر رکھا ہے وہاں سی این جی کی بندش نے ان کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ چولہے میں گیس نہیں ہے تو لکڑی جلا لی جائے لیکن اگر گاڑی میں سی این جی نہیں ہے تو پٹرول استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور پٹرول کا استعمال تو اب قارون بھی کرتے ہوئے ڈرتا ہو گا غریب عوام کی کیا مجال۔
عوام کو معیاری اور سستی ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا یقیناً حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن معیاری اور سستا ہونے کی تعریف ہر ایک کے لئے جدا ہوتی ہے۔ آج ترقی یافتہ اقوام روایتی ایندھن سے نکل کر توانائی کے متبادل ذرائع سے آگے مختلف فیول سیل وغیرہ کی نہ فقط باتیں کر رہے ہیں بلکہ عملی طور پر اس میدان میں پیش رفت بھی کر رہے ہیں۔ اس کے بر عکس ہمارے ملک میں روایتی ایندھن کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ویسے تو ہمیشہ حسن زن رکھنا چاہیئے اور اچھے کی توقع کرنی چاہیئے لیکن سی این جی بسوں کا آغاز پاکستان کے لئے نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے کراچی اور راولپنڈی میں بھی اسی طرح سے پروجیکٹ شروع کئے جا چکے ہیں جو انتہائی کم وقت میں اپنے غیر منطقی اور کسی حد تک ہمارے نظام کے مطابق منطقی انجام کو پہنچتے ہوئے بند ہو چکے اور دھواں دار کھٹارا بسوں کا ڈھیر نظر آتی ہیں۔
خدا نہ کرے کہ اس بار حکومت کا 700 بسیں چلانے کا وعدہ وفا کرے وگرنا عوام کو معیاری اور سستی ٹرانسپورٹ کی شکل میں جو سہولت دی جارہی ہے اس کی انتہائی بھاری قیمت کا بوجھ اس سہولت سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہوگا۔






