web analytics

Categories

تردامنی پہ شیخ۔۔۔

By at December 7, 2011 | 11:45 am | PrintA- Reset A+

تردامنی پہ شیخ۔۔۔

سنتے ہیں کہ گئے زمانے میں انسانی کردار کا اس کے ماحول پر گہرا اثر پڑتا تھا۔ لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اب ماحول کا کردار پر گہرا اثر پڑتا ہے یا یوں کہیں کہ اب خربوزے کو دیکھ کر رنگ بدلنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

رنگ بدلنے کی یہ روایت کیوں کر تعبیر ہوئی ہو گی اس سے غرض نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ رنگ بدلنے کا تعلق انسان کے کردار سے بہت گہرا ہے اور کمزور کردار اس تبدیلی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

انسانی کردار کی تبدیلی کے اثرات براہ راست معاشرے، ملک و قوم کو متاثر کرتے ہیں۔ کردار کی یہ تبدیلی مثبت ہوتی ہے تو ملک و قوم کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اگر منفی ہو تو من حیث القوم بدنامی کا ٹھپہ لگ جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں اس ضمن میں قدرے تفاوت پایا جاتا ہے۔ ہمارے ارباب اختیار و حکمران طبقہ (چاہے وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں) کردار کی تعریف کو قدرے دیگر انداز میں بیان کرتے ہیں لیکن اس سے جدا کردار کی یہ کمزوری ملک کی پولیسیز پر اپنے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے لہذا ان کے سدھارنے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اس لمبی چوڑی تمہید کے پیچھے وزات صنعت و پٹرولیم کا پٹرولیم اور سی این جی لائسنس کی فیسوں میں کمی کرنے کا فیصلہ ہے، جس سے ملک کو کروڑوں روپے کا نقصان متوقع ہے۔ خبروں کے مطابق پٹرولیم رولز 1934ءمیں گذشتہ سال (دسمبر 2010) تبدیلی کر کے پٹرولیم، سی این جی لائسنس فیس میں اضافہ کیا گیا جس کے سبب حکومتی محاصل 40ملین روپے سے بڑھ کر 500ملین روپے سالانہ تک پہنچ گئے تھے لیکن اب مجوزہ کمی کے اعلان کی صورت میں یہ محاصل 400ملین روپے کمی کے ساتھ ایک سو ملین روپے ہونے کا اندایشہ ہے۔

پٹرولیم، سی این جی لائسنس فیس کی کمی کے پیچھے ارباب اختیار کیا منطق استعمال کر رہے ہوں گے اس سے تو وہی بہتر واقف ہوں گے لیکن عرفیت میں تو سوائے ذاتی فوائد کے اور کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ ظاہر ہے پٹرولیم یا سی این جی لائسنس کا حصول دال بانٹنے کے لئے تو نہیں کیا جاتا۔ یہ قدرے بڑی سرمایہ کاری ہے جو عام آدمی کے بس سے باہر ہے ایسے میں یہ قدم کسی خاص طبقے کو نوازنے کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا ہے۔

دراصل یہاں بھی معاملہ خربوزے سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے۔ شاید وزارت کے مسﺅلین نے سوچا ہوگا کہ جہاں اتنے زیادہ رنگین خربوزے نظر آرہے ہیں تو اگر وہ بھی اپنا رنگ بدل لیں گے تو کونسی قیامت آجائے گی۔ ویسے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں ہرج ہی کیا ہے۔۔۔

خواجہ میر درد نے تو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کہا تھا لیکن ہمارے ملک میں تو اب تقریباً ہر کوئی اپنے گناہ کی پردہ پوشی کے لئے درد کے اس شعر کا سہارا لیتا نظر آتا ہے

تردامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

نقارہ خدا