web analytics

Categories

بے شمار ارفع کریم مگر گم نام

By at February 25, 2012 | 12:40 pm | PrintA- Reset A+

بے شمار ارفع کریم مگر گم نام

تحریر: فرحان فانی

نا امیدیوں کے جھکڑ، مایوسیوں کے طوفان اور نوع بہ نوع خدشات کی آندھیاں صرف اس عہد کا خاصہ نہیں، بلکہ اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور رہتے زمانوں تک ہوتا رہے گا۔ ایک مکمل اور مثالی انسان وہ ہوتا ہے جو ان طوفانوں کے مقابلے میں اس دیے کی طرح سینہ سپر ہوجائے جو پیہم تندی باد مخالف کے تھپیڑے کھانے کے باوجود بھی اپنی ٹمٹماہٹ برقرار رکھے۔ حالات سے لڑتے ہوئے تاریکیوں کے عہد میں اپنی ہمت کے بقدر اجالوں کی داستانیں رقم کرتا چلا جائے۔ ہم دراصل مایوسیوں میں جینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ قومیں جو ہزار پریشانیوں، المیوں اور دکھوں کے بیچوں بیچ سے خوشی کے پہلو کشید لیتی ہیں، ہمیں ان کے لیول تک پہنچنے کے لئے ابھی بڑی مدت درکار ہے۔ خیر ایسے مکمل اور غیرمعمولی انسان ہر عہد میں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور کم و بیش ہر بڑا آدمی عمومی بے اعتنائی اور عدم توجہی کا شکار ضرور ہوا ہے۔

انہی بڑے آدمیوں میں سے ایک پاکستان کی کم عمر بیٹی ارفع کریم تھی۔ بیسویں صدی کی نویں دھائی کے وسط میں اس بچی نے اس دنیا ئے رنگ و بو میں آنکھ کھولی۔ اس کے خاندان کے افراد کے بقول اس کی عادات بچپن سے ہی حیران کن تھی۔ وہ تھی تو ننھی منی سی گڑیا مگر اس کی سوچ و فکر اور نگاہ بہت دور تک رسائی رکھتی تھی۔ وہ عام بچوں کی طرح کھیلنے کودنے کے باوجود کچھ کر گزنے کا عزم اپنے دل میں رکھتی تھی۔ 12004ء کی ایک روشن صبح سے قبل پاکستانی قوم اس انمول ہیرے سے کلی طور پر ناواقف تھی کیونکہ ہمارا عمومی مزاج یہ بن چکا ہے کہ جب تک مغرب کی دانش گاہوں سے کسی کے ٹیلنٹ کا اعتراف نہ ہوجائے اس وقت تک ہم اپنے دیسی جوہر کو جوہر تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ اس سے من حیث القوم ہماری خود اعتمادی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ جب نوسالہ ارفع کو دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسوفٹ پروفیشنل ایکسپرٹ ہونے کا اعزاز ملا تو ہم بھی اس سے واقف ہوئے۔

اس کے بعد اخبارات، جرائد، رسائل اور دیگر میگزینز نے اس کے انٹرویو شائع کیے۔ مختلف ٹی وی چینلز نے ارفع کو اپنے پروگراموں میں بلا کر اس کی حیرت ناک کارکردگی کے حوالے سے سوالات کیے اور ارفع کے خیالات و عزائم لوگوں تک پہنچائے۔ اس کے علاوہ ارفع کو بہت سے ایوارڈز اور اعزازات سے بھی نوازا گیا اور بجا طور پر یہ اس کی مستحق بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں سے جو یہ کہتے ہیں کہ “ہم پاکستانیوں نے ارفع کی قدر نہ کی” کلی طور پر اتفاق مشکل ہے۔ اس کے علاوہ مائیکروسوفٹ کے مالک بل گیٹس نے اسے خصوصی طور پر ملاقات کیلئے امریکا بلوایا اور اس کی ذہانت اور فطانت کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔

ارفع کریم پاکستان کے ٹیلنٹ کی علامت کے طور پر ابھری اور پوری دنیا میں ہماری قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ گذشتہ دنوں میں نے ارفع کی زندگی میں اور موت کے بعد اخبارات میں چھپنے والے ۲ درجن سے زائد انٹرویوز، کالم، مضامین کا جائزہ لیا۔ کم و بیش ہر قلمکار نے ارفع کو پاکستان کی باصلاحیت بیٹی قرار دے کر اس کی مثالی کامیابیوں کو سراہا۔ اس کی زندگی کی یادوں، باتوں اور معصوم مسکراہٹوں کا ذکر کیا۔ چھوٹی سی ارفع کی لمبی لمبی امیدوں، تمنائوں اور خواہشوں کا تذکرہ کیا۔ اس معصوم پری کے پراعتماد لہجے اور متاثر کن انداز گفتار کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ دوسری جانب ان تعریفی و توصیفی کلمات کے بیچوں بیچ یہ شکوہ بھی نمایاں دکھائی دیا کہ حکومت نے بیرون ملک علاج کیلئے ائیر ایمبولینس کی کیوں منظوری نہ دی۔۔۔؟ جبکہ بڑے سیاسی راہ نمائوں اور قدکاٹھ کے حامل افراد اس سہولت سے پوری طرح مستفید ہوتے ہیں۔ اگر ارباب حل و عقد یہ بھی کر دیتے تو یہ اعتراض بھی جاتا رہتا۔ باقی موت کا وقت تو متعین ہے۔ وہ ہر حال میں آنی ہے۔ ہمارے ذمہ علاج کے ممکنہ اسباب اختیار کرنا ہے، باقی فیصلہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

ان الفاظ سے ارفع پری کو عقیدت کا سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس جانب توجہ دلانا مقصود ہے کہ ہمارے ملک کے شہروں کی طرح دور دراز دیہاتوں، قصبوں اور پسماندہ علاقوں میںبے شمار ارفعاعیں موجود ہیں۔ یہ وہ ذہین بچے ہیں جن کی صلاحیتوں سے ابھی تک ہمارا الیکٹرونک میڈیا بے خبر ہے۔ یہ غربت و مطلوبہ وسائل سے عدم یابی کی وجہ سے اپنے بنیادی حق سے محروم ہیں۔ ان کے ٹیلنٹ کے بارے میں پرنٹ میڈیا سے وابستہ لوگ بھی زیادہ واقف نہیں ہے۔ ان گمنام بچوں میں بہت سے ابھی تک اپنی پوشیدہ صلاحیتوں سے خود بے خبر ہیں۔ کہتے ہیں کہ کچھ سیکھنے اور یاد رکھنے کے حوالے سے بچپن کا زمانہ موزوں ترین ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں کے کچے مکانوں میں رہنے والے یہ بچے ناقص تعلیمی نظام کے باعث ضائع ہو رہے ہیں۔ ان کی سوچ و فکر کی صحیح خطوط پر پرداخت کیلئے مطلوبہ اسباب ناپید ہیں۔ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے کوئی بھی مناسب فورم میسر نہیں۔ وہ اپنے بچپن کے انتہائی قیمتی ایام بے فائدہ قسم کی سرگرمیوں میں گزار رہے ہیں۔

ترقی یافتہ قومیں تعلیمی شعبے کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ اس شعبہ میں روز افزوں ترقی کیلئے وسیع بنیادوں پر پروگرام تشکیل دیے جاتے ہیں۔ جدید عہد کے تقاضوں کے مطابق اساتذہ کو ریفریشنگ کورس کرائے جاتے ہیں۔ بچوں کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے فورم مہیا کیے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں جن دیہی علاقوں میں کسی نہ کسی شکل میں تعلیمی ادارے موجود ہیں وہاں بھی ایک عام بچہ صرف اس حد تک تعلیم حاصل کر سکتا ہے کہ وہ مناسب مزدور جو اپنے دستخط کر سکتا ہو یا زیادہ سے زیادہ کلرک بھرتی ہو جائے، اور جن علاقوں میں اسکول زمین پر نہیں بلکہ سرکاری کاغذوں میں موجود ہیں وہاں کے نونہالوں کا خدا ہی حافظ ہے۔۔۔

ارفع، علی معین، سنبل سید، ملالہ یوسف زئی اس کی وہ مثالیں ہیں جن تک کیمرے کی رسائی ہو سکی۔ بے شمار وہ ہیں جنہیں ابھی تک کسی غیر ملکی دانش گاہ کی جانب سے اعترافی سرٹیفکیٹ نہیں مل سکا۔ اس لئے ہمارے ارباب قلم و کیمرہ غیر معینہ مدت تک انتظار کریں۔ چند دن قبل راقم ایسے ہی دو غیر معمولی صلاحیت کے حامل بچوں سے مل چکا ہے۔ ان کو ایک مستقل کالم میں خراج تحسین پیش کروں گا۔ مشاہدہ تو یہ ثابت کر چکا ہے کہ زرخیز مٹی اور “ذرا سی نمی” کے امتزاج کا نتیجہ کس درجہ حیران کن اور امید افزاءہوتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے ملک کی زرخیز مٹی کو یہ “نمی” کون فراہم کرے گا؟ کون قوم کے تمام بچوں کو ان کا بنیادی حق تعلیم کا حصول دلائے گا۔۔۔؟ کون مرد قلندر ہو گا جو بچوں کو کسی وڈیرے کی چاکری اور اپنی جان سے سخت تر مزدوری کے کاموں سے نکال کر کسی دانش گاہ میں بٹھائے گا۔۔۔؟

ارفع کریم بھی ایک دیہی علاقے میں پیدا ہوئی۔ اس نے عزم، حوصلے اور دنیا کو فتح کرنے کے جذبے کی لازوال تاریخ رقم کی۔ اس نے نہایت کم عمر میں پوری دنیا کے سامنے پاکستان کے امیج کو بلند کیا۔ اس نے بتا دیا کہ اقبال کے دیس میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بس ذرا سی نمی کی ضرورت ہے۔
کاش کہ اس قوم کو کوئی راہ نمائے کامل مل جائے، جو قوم کا درد رکھتا ہو، جس کی دلچسپیوں کا محور قوم کی سر بلندی، ترقی اور پیش قدمی ہو۔ جس کا دامن کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانی کے سیاہ دھبوں سے پاک ہو۔ جو اس قوم کے موتیوں اور جواہرات کو تلاشنے اور انہیں صحیح مقام دینے کی تڑپ رکھتا ہو۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ہمارے ہر شہر، ہر قصبے، ہر گائوں اور گوٹھ سے سینکڑوںارفع پیدا ہوں گے۔ ہم دنیا میں فخر کے ساتھ سر بلند کر سکیں گے۔ کاش اے کاش ایسا ہو جائے۔

نقطہ نظر , , , , , ,