web analytics

Categories

باردانہ سے باربرداری تک۔۔۔

By at April 2, 2012 | 2:56 pm | PrintA- Reset A+

باردانہ سے باربرداری تک۔۔۔

باردانہ کی بات ہو یا باربرداری کی، بات میں بار آجائے تو بہت سارے لوگوں پر گراں بار ہو جاتی ہے بلکہ بعض افراد کا گراف بار تک گر جاتا ہے۔ یہ عام سی بات ہے کہ بار گراف گر جائے تو دل و دماغ پر بار بڑھ جاتا ہے اور ایسے لوگوں کا وجود مجسم بار بن جاتا ہے۔ ”بار“ کے بار بار تذکرے کا مقصد کسی کے ذہن پر بار بننا نہیں ہے بلکہ بار کی اس تمہید کے پیچھے گندم کے باردانے سے اربابِ اختیار کا صرفِ نظر ہے۔
اپریل کا مہینہ گندم کی کٹائی کا مہینہ ہوتا ہے، گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آتی ہے۔ لیکن گندم کی فصل کو ذخیرہ کرنے کے لئے ہمارے ملک میں تاحال دقیانوسی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے، جس میں گندم کو تھیلیوں یا بوریوں میں بھر کر گوداموں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان بوریوں کو زراعت کی زبان میں باردانہ کہا جاتا ہے۔
گندم کی خریداری مہم میں اربوں روپے کا باردانہ استعمال کیا جاتا ہے۔ باردانہ کا یہ استعمال نہ فقط جدید تقاضوں سے متصادم ہے بلکہ باردانہ کی خرید اور کسان تک فراہمی نیز گندم کی فروخت کے مراحل میں فصل کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے اور کسان بھی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ بارادانہ کی تقسیم حکومتی ذرائع سے کی جاتی ہے لہذا اندھا بانٹے ریوڑیاں کے مصداق منظورِ نظر لوگوں کو ہی باردانہ ملتا ہے۔ وگرنہ عام کسان کی ضرورت کے آدھے بھی باردانہ مل جائے تو کسان اس کو غنیمت جانتا ہے۔
حکومت کی جانب سے تقسیم کیا جانے والا باردانہ آڑھتی اور مڈل مین ملی بھگت سے اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں جو کہ علاقے کے بااثر زمینداروں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ باردانہ کا زمینداروں کے پاس ذخیرہ کرنے کا مقصد زیادہ سے زیادہ گندم کا حصول ہے کہ جس کے پاس جتنا زیادہ باردانہ ہوتا ہے وہ اسی قدر زیادہ گندم ذخیرہ کر سکتا ہے۔ جب کسی کسان کے پاس باردانہ ہی نہیں ہوگا تو وہ اپنی جھولی میں گندم سمیٹ کر فروخت کرنے سے تو رہا۔ لہذا بااثر زمیندار حضرات اپنے من مانے نرخ لگاتے ہیں جس کا اصل نقصان کسان کو ہوتا ہے۔
باردانہ کی یہ تقسیم جہاں کسان کا استحصال کرتی ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ بذات خود گندم کے ضائع ہونے کا سبب بھی بنتی ہے۔ پٹ سن یا پولی پراپلین کی بوریوں میں ذخیرہ شدہ گندم موسمی تغیرات کا جلد شکار ہوجاتی ہے اور اگر ناگہانی آفات مثلاً سیلاب وغیرہ آجائے تو ذخیرہ کا ذخیرہ ضائع ہو جاتا ہے۔
باردانہ کے چکر سے نکل کر کسان کے لئے اگلی منزل باربرداری ہے یعنی گندم کو نجی یا سرکاری گودام تک پہچانا ہے۔ گرچہ ہر سال یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ کسان کی فصل کھیت سے خریدی جائے گی لیکن اس کے باوجود اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسان کو خود ہی فصل کی پہنچ کا انتظام بھی کرنا ہوتا ہے۔ اس باربرداری کے لئے کسان ایک بار پھر دوسروں کا محتاج بن جاتا ہے وگرنہ مڈل مین اور آڑھتی اس کا حق غضب کر لیتے ہیں۔
کسان کے کندھوں سے اگر ہم مشکلات کا بار ہٹانا چاہتے ہیں تو ہمیں انہیں باردانہ فراہم کرنا ہو گا یا پھر جدید طریقہ زراعت اختیار کرتے ہوئے بلک اسٹوریج سسٹم کو اپنانا ہوگا کہ نہ بار رہے نہ باربرداری۔۔۔ اور نہ ہی باردانہ۔۔۔

نقارہ خدا , , ,