تھر : بجلی کی ایک فیصدپیداوار بھی شروع نہیں کی جاسکی
By Technology Times at April 7, 2012 | 12:36 pm | PrintA- Reset A+
اسلام آباد (ہاجرہ زیدی) ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جن سے نہ صرف ڈیزل اور گیس کی بڑی مقدار حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ سالانہ کئی ہزار میگا واٹ بجلی کا حصول بھی ممکن ہے، تاہم گزشتہ بیس سال کے دوران ان ذخائر سے اب تک ایک میگاواٹ بجلی بھی حاصل نہیں کی جاسکی۔ اب تک کئی ممالک تھرکول منصوبے میں سرمایہ کاری کےلئے پاکستان سے معاہدہ کر چکے ہیں اور اس پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی کی جاچکی ہے، جس سے ملک کی معاشی صورتحال سمیت توانائی کے حالیہ بدترین بحران کو بھی باآسانی ختم کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود ان معاہدوں کے نتیجے میں ملکی ضرورت کیلئے ایک فیصد بجلی بھی پیدا نہیں کی جاسکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئلے سے 300 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ایک پلانٹ تقریباً تین سال میں مکمل ہوکر بجلی فراہم کرنا شروع کردیتا ہے جس کے بعد ہر آنے والے سال میں اسکی پیدواری گنجائش میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ دیگر الفاظ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر مرکزی حکومت تھرکول منصوبے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کےلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو ملک کے طول و عرض میں وباءکی طرح پھیلنے والی لوڈشیڈنگ کو 3 سے 4 سال میں باآسانی ختم کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق متعدد غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ لگانے میں دلچسپی کا اظہار کرچکے ہیں، لیکن پاکستانی حکومت کی جانب سے سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت ایک پانچ سالہ مضبوط اور موئثر انرجی پالیسی کا اعلان کرے، جس میں سرمایہ کاروں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ بجلی کی پیدوار اور خریداری کیلئے بھی واضع صورتحال پیش کی جائے تو صرف پانچ سال کے دوران ملک سے بجلی کا بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک کوئلے سے بجلی اور گیس بنا کر اپنی توانائی کی ضروریات پورا کر رہے ہیں۔ اس وقت امریکہ کوئلے سے اپنی ضرورت کا 43 فیصد، بھارت 35 فیصد، آسٹریلیا 40 فیصد، جرمنی 70 فیصد، ہنگری 90 فیصد اور چین 57 فیصد جبکہ پاکستان صرف 200 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے، جو مجموعی ملکی طلب کا صرف 7 فیصد ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومتی ادارے اور نجی کمپنیز کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے تاحال تحقیق کے مراحل میں ہیں جبکہ اس ضمن میں ٹیکنولوجی دنیا میں بڑے پیمانے پر استعمال ہورہی ہے۔ تھرکول منصوبے میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو حکومتی سہولتوں کی عدم فراہمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دو دہائیاں گزرجانے کے باوجود بھی کوئلے کے ان ذخائر تک جانے کیلئے مضبوط سڑکیں موجود نہیں ہیں، جبکہ دوسری جانب نجی سرمایہ کاروں اور وفاقی اداروں کے درمیان بجلی کے نرخوں کا مسئلہ بھی حل نہیں کیا جاسکا۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے تھر میں موجود کوئلے کے ذخائر سے بجلی پیدا کرنے کیلئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی ہے، لیکن حکومت سندھ بھی بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ دس سال قبل چین کی ” شی نوا“ نامی معروف کمپنی نے تھرکول منصوبے میں سرمایہ کاری کےلئے رضامندی ظاہر کی تھی مگر حکومت نے زیادہ نرخوں کی وجہ سے مذکورہ کمپنی کی پیشکش کو رد کر دیا۔ اگر اس وقت منصوبے پر کام شروع کر دیا جاتا تو آج ملک میں بجلی اور گیس کا بحران پیدا نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ جولائی 2011ء میں چین کی ایک اور کمپنی ”کنک ہو“ نے بھی تھر کول مائنز بلاک 7 میں تین اعشاریہ پانچ بلین ڈولر کی سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور کراچی کے خراب حالات کے باعث کمپنی نے معاہدے سے انکار کر دیا ہے۔ حکومت اگر مذکورہ کمپنیز کو مکمل سکیورٹی اور تعاون کی یقین دہانی کرواتی تو انہیں اعتماد میں لیا جاسکتا تھا۔
کوئلے سے گیس اور گیس سے بجلی بنانے کےلئے پاکستان کے معروف سائنسدان ڈاکٹر ثمرمبارک مند کو تھر کا بلاک نمبر ۵ دیا گیا تھا، جس پر کامیاب تجربات کے بعد ڈاکٹر ثمر مبارک مند کوئلے سے گیس بنانے میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور اب انہیں گیس سے بجلی بنانے کےلئے مزید رقم درکار ہے، تاہم سندھ اور وفاقی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کےلئے تاحال رقم ادا نہیں کی جاسکی۔ ڈاکٹر ثمر کا مذکورہ منصوبہ کامیاب ہونے کی صورت میں 2013ء تک 100 میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع کی جاسکتی ہے، جبکہ اس منصوبے کیلئے مختص کئے گئے کوئلے کے ذخائر کو آئندہ 30 برس تک استعمال کیا جاسکے گا۔
حال ہی میں چین کی سرکاری سرکاری کمپنی تھری گارجز کاپوریشن نے 2018ء تک پاکستان کے توانائی کے شعبے میں دس ارب ڈالر سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ دوسری جانب ایک اور چینی کمپنی یونائیٹڈ انرجی گروپ لمیٹڈ نے بھی سندھ میں دو ہزار میگاواٹ بجلی کے پیداواری منصوبے پر کام کرنے کیلئے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے تھر اور بدین کول فیلڈز میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعمیر کےلئے سندھ کول اینڈ انرجی ڈویلپمنٹ اور دو چینی کمپنیوں کے درمیان معاہدوں پر دستخط کئے جاچکے ہیں۔






