دو اور دو پانچ ۔۔۔
By Technology Times at April 7, 2012 | 12:37 pm | PrintA- Reset A+
قصہ مشہور ہے کہ ایک استاد نے تاجر کے بیٹے سے سوال کیا کہ بتاﺅ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو تاجر کے بیٹے نے جواب دیاپانچ۔۔۔۔۔ استاد نے غصے سے کہا صحیح صحیح سوچ کر بتاﺅ، تاجر کے بیٹے نے فوراً جواب دیا ماسٹر جی چار۔۔۔۔۔ استاد نے استفسار کیا کہ پہلے صحیح کیوں نہیں بتایا تھا، تاجر کے بیٹے نے جواب دیا کہ میں نے سوچا کہ آپ جب کم کرنے کو کہیں گے تو کم کر دوں گا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی گرانی کے پیچھے بھی حکومت تاجر کے بیٹے والی ترکیب استعمال کر رہی ہے۔ اب تو تقریباً ہر مہینے کے اختتام پر پٹرولیم کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے جس کو اگر نئی کی جگہ بڑھی ہوئی قیمت کہیں تو قطعی بے جا نہ ہوگا کہ ہر ہفتے نئی آنے والی قیمت میں پچھلی قیمت کی نسبت اضافہ ہی ہوتا ہے۔
گئے زمانے میں قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے حکومت یہ امر بھی ملحوظِ خاطر رکھتی تھی کہ یہ اضافہ عوام پر انتہائی گراں بار نہ گزرے لیکن اب مختلف اجناس کی قیمتوں کے اضافے میں عوام کو خاطر میںلایا ہی نہیں جاتا ہے اور چاروناچار عوام کو یہ اضافہ برداشت کرنا ہوتا ہے۔
بہر خیر نئی قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے اور یہ اعلان کرتے ہوئے تاجر کے بیٹے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے کہ اگر عوام نے شور و واویلا مچایا تو دس فیصد اضافہ کر کے دو فیصد واپس لے لیں گے اور اگر شور نہ مچایا تو پانچوں گھی میں۔۔۔
وزارت پٹرولیم کی یہ حکمت عملی تاجر کے بیٹے کو تو زیب دیتی ہے لیکن حکومتی سطح پر یہ ناقص منصوبہ بندی کی دلیل ہے۔ اس حکمت عملی کے دو ہی اسباب ہو سکتے ہیں اول یا تو بنا کسی حساب کے اضافہ کر دیا جاتا ہے جس کا مقصد کسی خاص طبقے کو نوازنا ہے یا دوسرے یہ کہ ضرورت سے زیادہ اضافہ کیا جائے تاکہ جب قیمت کم کی جائے تو عوام کو یہ تاثر ملے کہ حکومت عوام کی خیرخواہ ہے۔
ملک میں اس وقت خام تیل کا استعمال چار لاکھ پچیس ہزار بیرل یومیہ یعنی تقریباً پانچ کروڑ لیٹر ہے جس میں سے اسی فیصد سے زائد پٹرولیم مصنوعات ملک میں درآمد کی جاتی ہیں، اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس قدر زیادہ پٹرولیم مصنوعات میں اگر ایک فیصد بھی غیر ضروری اضافہ کیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والا یومیہ منافع کروڑوں روپوں میں ہوگا۔
پٹرولیم مصنوعات میں یہ بے مہار اضافہ نہ فقط عوام پر براہ راست بوجھ ہے بلکہ پٹرولیم سے وابستہ تمام مصنوعات کی قیمتوں پر اضافہ بھی عوام کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔ نیز پٹرولیم مصنوعات کے اضافے کے ساتھ ہی ذرائع آمدورفت کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے تو یوں پٹرولیم مصنوعات کے اضافے کا اثر کثیر جہتی ہوتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کے استعمال کے سبب ملک کو کثیر زرمبادلہ ادا کرنا ہوتا ہے لہذا بہتر یہ ہے کہ حکومت کوئی ایسا نظام وضع کرے کے جس کے تحت پٹرولیم مصنوعات کے اضافے کو روکا جاسکے۔ اس ضمن میں پٹرولیم مصنوعات کی راشننگ کی تجویز ایک بہتر حل ہو سکتی ہے۔






