نولانگ اور جھل مگسی ڈیمز کی تعمیر نظر انداز
By Technology Times at April 7, 2012 | 12:19 pm | PrintA- Reset A+
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) پلاننگ کمیشن اور واپڈا نے بلوچستان میں نولانگ اور جھل مگسی ڈیمز کی تعمیر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تمام توجہ دادو میں نئی گاج ڈیم کی تعمیر پر مرکوز کر دی ہے۔ پلاننگ ڈویثرن کے ایک سینئر اہلکار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حالانکہ حکومت کو مالی مسائل کا سامنا ہے لیکن نیا گاج ڈیم منصوبہ بلوچستان میں مجوزہ نولانگ ڈیم کی تعمیر پر خرچ ہونے والے اکڑاجات سے دگنی رقم پر بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے دو سال قبل چاروں صوبوں میں چھوٹے بڑے ڈیم بنانے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنا اور غربت میں کمی تھا۔ نئی گاج ڈیم اور نولانگ ڈیم کی سندھ کے ضلع دادو اور بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں تعمیر کی منظوری دی گئی تھی۔
میڈیا دستاویزات کے مطابق نئی گاج ڈیم کی تعمیر پر چونتیس اعشاریہ آٹھ سات ارب جبکہ نولانگ ڈیم پر اٹھارا اعشاریہ تین ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے۔ نولانگ ڈیم کی بلندی 186 فٹ ہوگی جبکہ اس میں ایک لاکھ 99 ہزار 956 ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی جبکہ اس سے 47 ہزار ایکڑ زمین سیراب ہوسکے گی علاوہ ازیں اس ڈیم سے چار اعشاریہ چار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی اس کے مقابلے میں نئی گاج ڈیم کی بلندی 194 فٹ ہوگی جبکہ اس میں ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اور اس سے 46 ہزار 800 ایکڑ زمین سیراب ہوسکے گی اور اس سے چار اعشاریہ دو میگاواٹ بجلی بھی حاصل ہوسکے گی۔






