web analytics

Categories

بدون انرجی کانفرنس

By at April 14, 2012 | 1:15 pm | PrintA- Reset A+

بدون انرجی کانفرنس

حال ہی میں ایکبار پھر حکومت نے توانائی کے بحران سے نمٹنے اور جامع منصوبہ بندی کےلئے انرجی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ گزشتہ انرجی کانفرنس میں بھی حکومت نے بجلی کی بچت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے چند تجاویز کا انتخاب کیا تھا جن پر عمل کرتے ہوئے کتنی بچت کی جاسکی ہے وہ حکومتی حلقے جانتے ہیں لیکن عوام کے حصے میں مزید لوڈشیڈنگ آئی تھی۔
حالیہ انرجی کانفرنس میں کسی نئی تجویز کی بجائے گزشتہ تجاویز کا ہی اعادہ کیا گیا ہے نیز صوبوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی منصفانہ تقسیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
انرجی کانفرنس کے مقاصد کیا ہونے چاہئے، یہ انتہائی توجہ طلب امر ہے۔ انرجی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد انرجی کے بحران سے نجات کا حل تلاش کرنا ہونا چاہئے چہ جائیکہ انرجی کانفرنس کو سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے۔
کسی کانفرنس کی کامیابی کا انحصار اس کانفرنس کے موضوع کے مطابق ماہرین کی شمولیت پر ہوتا ہے۔ ملک میں منعقد کی گئی انرجی کانفرنس میں کیا ہی اچھا ہوتا کہ پہلے صوبائی سطح پر انرجی کانفرنسز منعقد کرکے تکنیکی معلومات اور تجاویز حاصل کی جاتی۔ اسطرح وفاقی سطح پر زیادہ مدلّل حل سامنے آسکتے تھے۔
انرجی کانفرنس میں بچت کے ساتھ پیداوار بڑھانے کے وسائل و ذرائع پر بھی توجہ دینا اشد ضروری تھا کہ ملکی بجلی کی ضروریات میں سالانہ سات فیصد اضافہ ہورہا ہے لہذا فقط بچت کے ذریعے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی عفریت پر قابو نہیں پایا جاسکتاہے۔
کاروباری مراکز کا آٹھ بجے بند ہونا، وفاق کی سطح پر ہفتے میں دو تعطیلات کرنا، بجلی چوری کےلئے نئی قانون سازی، موسم سرما اور گرما میں دفتری اوقات میں تبدیلی جیسی تجاویز سال گزشتہ بھی زیر غور تھیں، جن میں سے کچھ پر عمل کی گیا اور کچھ پر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تجاویز پر عمل کرنے کا نتیجہ کیا نکلا۔ نتیجے پر نظر ڈالیں تو ڈھاک کے تین پات۔۔۔۔۔
ہمارے ملک میں قانون سازی کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ ہمارے اذہان کا شمار دنیا کے بہترین اذہا ن میں کیا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ قانون کا اطلاق ہے کہ قانون چاہے کتنا بھی سخت ہو لیکن اگر اس کو نافذ نہیں کیا جائے گا یا اس کا نفاذ محدود نوعیت کا ہوگا تو اس سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ انرجی کانفرنس میں بھی رات آٹھ بجے بازار بند کرناشامل تھا لیکن اس پر کتنے فیصد عمل ہوا ہے؟
پاکستان میں توانائی کے بحران سے نجات حاصل کرنے کے متعدد ممکنہ حل موجود ہیں لیکن اصل مسئلہ سیاسی خواہش ہے۔ تھر کے کوئلے کے ذریعے توانائی کا حصول، ڈیم کے ذریعے توانائی کی پیداوار، توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی سطح پر بہتے دریاﺅں پر ٹربائن کی تنصیب، بائیو گیس و کچرے سے توانائی، پڑوسی ممالک سے توانائی کی درآمد اور ان جیسے انگنت حل سائنسدانوں اور انجینئرز کے پاس موجود ہیں۔ لیکن ان سے فائدہ اٹھائے کون۔۔۔۔۔
جب تک انرجی کانفرنس میں بذات خود انرجی نہیں ہوگی، یہ اور اس جیسی دیگر کانفرنسز توانائی کے بحران کے حل میں کامیاب کردار ادا نہیں کرسکتی ہیں۔ لہذا ارباب اختیار کو چاہئے کہ متذکرہ بدون انرجی کانفرنس میں انرجی ڈالیں تاکہ یہ ملکی انرجی کے مسائل کو انرجی مہیا کرسکے۔

نقارہ خدا , ,