پاکستان کا مستقبل تھرکول سے وابستہ
By Technology Times at April 14, 2012 | 1:42 pm | PrintA- Reset A+
اسلام آباد(سید محمد عابد) تھر میںکوئلے کے ذخائر پاکستان کی ترقی، محفوظ مستقبل، خودکفالت اوربقاءکا دارومدار ہے، اس پرکسی قسم کا سمجھوتا کیا جا سکتا نہ اس میں تاخیر برداشت کی جا سکتی ہے۔ اس منصوبے پر مناسب توجہ دینے سے ملک کے درآمدی بل میں کمی اورآمدنی و روزگار میں زبردست اضافہ ہو گا۔ یہ بات وفاق ہائے ایوان صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی برائے صحت اور ڈائریکٹر پاک برطانیہ بزنس کونسل طارق محمود نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے کہا کہ تھر میں موجود ۵۷۱ ارب ٹن کوئلے سے پاکستان کو کئی صدیوں تک سعودی عرب اور قطر کے مجموعی تیل و گیس کے ذخائر سے زیادہ توانائی مل سکتی ہے جبکہ ایک لاکھ میگاواٹ بجلی بنا کر ملک کو تیز رفتاری سے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود 1991ءمیں دریافت ہونے والے ذخائر سے اب تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔
طارق محمود نے کہا کہ پاکستان نے صارفین کو سستی، قابل اعتماد اور پائیدار بجلی کی فراہی اور بھاری زرمبادلہ کمانے کے لئے حکومت کو اس سلسلہ میںسنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان تیس فیصد توانائی ضروریات درآمد کر رہا ہے اور اگلے آٹھ سال میں بجلی کی طلب چھبیس ہزار میگا واٹ اور درآمدی بل کم از کم 130 ارب ڈالرہو جائے گاجس سے نمٹنا ناممکن ہوگا۔ جرمنی، چین، بھارت کوئلہ سے 80، 72 اور 63 فی صدبجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 20 میگا واٹ کا ایک بجلی گھر چل رہا ہے۔






