موسمیاتی تبدیلی اورسیاچن گلیشیئر“ سیمینار کا انعقاد
By Technology Times at April 23, 2012 | 12:21 pm | PrintA- Reset A+
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شمال میں واقع مغربی گلیشیئرزکے مقابلے میں مشرقی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ شمالی علاقوں میں اوسط درجہ حرارت صفر اعشاریہ سات چھ ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ گیا ہے اور اس سے گرمی کی شدت بڑھی ہے جس سے علاقہ میں ماحول پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سیاچن گلیشیئر پر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ،کاربن اور انسانی فوجی مداخلت کے اثرات کی وجہ سے پڑ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے پیر کو اسلا م آباد میں پالیسی انسٹی ٹیوٹ برائے پائیدار ترقی کے زیر انتظام ” موسمیاتی تبدیلی اورسیاچن گلیشیئر، ایک عالمی چیلنج“ کے عنوان سے سیمنار میں خطاب کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے موسمیاتی امور سے متعلق مشیر ڈاکٹر قمرزمان چوہدری نے کیا۔
ایس ڈی پی آئی میں پانی اور توانائی سے متعلق مشیراور گلیشیئرز کے بارے میں ماہر ارشد ایچ عباسی نے کہا کہ سیاچن گلیشیئرز میں درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ وہاںبڑے پیمانے پر فوجی مداخلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورسز بنکر ز، کیمپ،ہیلی پیڈز اور ایئرفیلڈ بنانے کے لیے صدیوں پرانے گلیشیئرز کو توڑنے اور پگھلانے کے لئے کیمیکلز استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ تاثر مسترد کر دیا کہ عالمی درجہ حرارت کے باعث سیاچن گلیشیئرز پگھل رہا ہے ا نہوں نے ناساکی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ قراقرم میں واقع ۵۶ فیصد گلیشیئرز پھیل رہے ہیں اور اگر ملحقہ گلیشیئرز پھیل رہے ہیں تو پھر صرف انسانی مداخلت ہی ایسی وجہ ہے جو سیاچن کو پگھلارہی ہے۔






