web analytics

Categories

بکرے کی ماں۔۔۔۔۔

By at April 30, 2012 | 11:32 am | PrintA- Reset A+

بکرے کی ماں۔۔۔۔۔

معروف کہاوت ہے “بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی”۔ ٹیکنولوجی میں بکرا یا اس کی ماں تو نہیں ہے لیکن بکرے کی جگہ ریسرچ و ڈویلپمنٹ فنڈز بصورت آئی سی ٹی آر اینڈ ڈی اور یونیورسل سروسز فنڈز (یو ایس ایف) ضرور موجود ہیں، اور حالات ایسے بنائے جارہے ہیں کہ اب ان کی خیر منانا قدرے دشوار نظر آرہا ہے، آج نہیں تو کل ان کو قربان ہونا ہی پڑے گا۔
بنا عید قربانی کا تذکرہ یوں ہے کہ وزارت آئی ٹی و ٹیلیکوم کی بدقسمتی ہے کہ اول اس وزارت کو وزیر نہیں ملتا اور جب ملتا ہے تو وہ سوا سیر ہوتا ہے۔ گزشتہ چار سال سے اس وزارت میں جتنی تیزی سے وزیر اور سیکریٹری حضرات تبدیل ہوئے ہیں اتنی برق رفتاری سے تو عام لوگ جوتے تبدیل نہیں کرتے ہیں۔
جوتوں کی تبدیلی کا تذکرہ جوتے چٹخانے سے آتا ہے، سرکاری دفاتر میں عام آدمی کے جوتے چٹخ جاتے ہیں اور اس کو اپنے جائز کام کےلئے بھی جواز کا سہارا لینا پڑتا ہے اور پھر بھی کام نہیں ہوتا، لیکن جو کام سرکار کرنا چاہے اس کےلئے جواز بنالینا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے۔
آئی سی ٹی آر اینڈ ڈی فنڈ — یو ایس ایف — وزارت آئی ٹی و ٹیلیکوم، ان میں ایک خاص ربط ہے۔ اول الذکر دونوں اداروں کے پاس ایک بڑا فنڈ ہے اور موخرالذکر کنگال ہے۔ وزارت کو ان فنڈز پر اختیار رکھتے ہوئے بھی مکمل اختیار نہیں ہے۔ لہذا صورت یہ نکالی جاسکتی ہے کہ دونوں اداروں میں من پسند افراد کی بھرتی کرکے فنڈز کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر لیا جائے۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ آئی سی ٹی آر اینڈ ڈی فنڈ اور یو ایس ایف دونوں کے سربراہان تبدیل ہوچکے ہیں، وزارت میں سیکریٹری موصوف بھی حال ہی میں تعینات کئے گئے ہیں اور اب آخری کیل کے طور پر اپنے کام میں ماہر ترین وزیر صاحب بھی وزارت میں براجمان ہوگئے ہیں۔ گویا شطرنج کی بساط بچھائی جاچکی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بازی میں مات کس کو ہوتی ہے۔ یا باالفاظ دیگر قربان کون ہوتا ہے؟
ویسے تو ہمارے ملک میں قربان وہی ہوتا ہے جو سبق یاد کرتا ہے یعنی جو مستعدی سے کام کرتا ہے اسی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ متذکرہ دونوں فنڈز بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ اور یہ فنڈز گزشتہ زمانوں میں انتہائی مستعدی، لگن اور ایمانداری سے کام کرتے رہے ہیں اور آئیندہ کےلئے بھی امید قوی ہے کہ بہتر سے بہتر کی طرف گامزن رہیں گے۔
کہتے ہیں کہ حسن زن رکھنا چاہیئے اور اسی فارمولے کے تحت ہم بھی امید کرتے ہیں کہ موجودہ تمام تبدیلیوں کا مقصد ان اداروں کی فعالیت کو مزید فعال کرنا ہوگا لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ بہتر ہے کہ حفظ ماتقدم کے تحت ان اداروں کے ارباب اختیار کو یہ بآور کروایا جائے کہ متذکرہ اداروں کو اپنے دائرے اختیار کو وسیع کرتے ہوئے تحقیق اور جستجو کے ثمر کو عوام تک پہنچانا ان اداروں کی اولین ذمہ داری ہے جس کےلئے عوام کی خون پسینے کی کمائی سے ان اداروں کو فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔ وگرنہ ہم تو اپنے طور پر بکرے کی ماں کی خیر کی دعا مانگ ہی رہے ہیں۔

نقارہ خدا ,