web analytics

Categories

پانی پانی کی فریاد۔۔۔۔۔

By at May 8, 2012 | 3:01 pm | PrintA- Reset A+

پانی پانی کی فریاد۔۔۔۔۔

پانی زندگی کا وہ جزو لا ینفک ہے کہ جس کے بغیر زندگی کا تصور ہی بعید ہے۔ اگر کسی سیارے یا جگی پرزندگی کے آثار دیکھنے ہوتے ہیں تو پانی کی موجودگی سے اس سیارے یا جگہ پر زندگی کے آثار کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
کہتے ہیں کہ دنیا میںآئندہ آنے والی تمام جنگیں پانی پر لڑی جائیں گی۔ویسے تو ماضی میں بھی اکثر جنگیں پانی پر ہی ہوتی تھیں۔ ازمنہ قدیم کی آبادیاںبھی پانی کے نزدیک ہی قائم کی جاتی تھیں۔
پانی کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے پر کیا کیا جائے کے ہمارے ارباب ِ اختیار اس کی اہمیت سے صرف نظر کرتے چلے آرہے ہیں۔ گزشتہ ۷۳ سال سے ہمارے ملک میں دریاو¿ں سے حاصل ہونے والاکم ازکم ۰۲ فیصد پانی بغیر استعمال کئے دریا برد ہو جاتا ہے۔
پانی کی ذخیرہ اندوزی میں بھی ہم دیگر اقوامِ عالم سے پیچھے ہی نظر آتے ہیں ۔ انٹرنیشنل کمیشن آن لارج ڈیمز کی رپورٹ کے مطابق مستقل کی ضروریات کے پیشِ نظردنیا کے دیگر ممالک اوسطاً چالیس فیصد پانی ذخیرہ کر رہے ہیںجبکہ پاکستان فقط تیرہ فیصد پانی ذخیرہ کر رہا ہے۔
پانی کی ذخیرہ کرنی کی صلاحیت پن بجلی کی پیداوار پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہےکیونکہ پانی کسی بھی ملک کے لیے توانائی کے حصول کا سستا ترین ذریعہ تسلیم کیا جاتاہے۔متذکرہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں ۷۳ ہزار۱۴۶ ڈیم ایسے ہیں جن کی بلندی ۵۱ فٹ یا اس سے زائد ہے جن میں سے ۰۷ فیصدسے زائدڈیم آبپاشی، بجلی پیدا کرنے، پانی کی فراہمی، سیلاب کی روک تھام یا فش فارمنگ جیسے مقاصد میں سے کسی مقصدِ واحد کے تحت بنائے گئے ہیںجبکہ ۵۲ فیصد کے قریب کثیر المقاصد ڈیم ہیں۔
دنیا میں تعمیر کیے گئے ان یک جہتی یا کثیر جہتی ڈےم کا مقصد نہ فقط پانی کے ضائع ہونے کو روکنا ہے بلکہ پانی کو ذخیرہ کر کے تعمیری اور فلاحی کاموںمیں استعمال کرنا اصل مقصد ہے۔پانی فقط ذخیرہ کرنے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں اس طرف توجہ کا شدید فقدان ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سنہ ۰۰۰۲ ءمیں پاکستان میں فی کس ۱۶۹۲ مکعب میٹر پانی دستیاب تھا جو سنہ ۵۰۰۲ءمیں کم ہو کر ۰۲۴۱ مکعب میٹر رہ گیا تھااور موجودہ دور میں ایک محتاط اندازے کے مطابق فی کس ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی کم ہو گیا ہے۔
پاکستان میں آخری بڑا ڈیم ۴۷۹۱میں تربیلا کے مقام پر بنایا گیا تھا جو اب اپنی مدت کے پورا ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعدسے آج اڑتیس سال گزر گئے ہیں لیکن ہم کوئی بھی بڑا ڈیم تعمیر کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کا سبب تکنیکی مہارت کے فقدان کی بجائے سیاسی چپقلش رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیم کی تعمیر کو سیاسی اثر اندازی سے نکال کر کلّی طور پر تکنیکی پس منظر میں پرکھا جائے تاکہ ملک میں موجود پانی کی فی کس کمی کو پورا کیا جاسکے اور مستقبل کے لیے بھی بہتر طور پر منصوبہ بندی کی جا سکے۔ وگرنہ آج کی طرح کل بھی ہر جگہ پانی پانی کی فریاد سنائی دے گی۔a

نقارہ خدا ,