بائیو گیس کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد
By Technology Times at May 14, 2012 | 12:04 pm | PrintA- Reset A+
لاہور (نیوز رپورٹر) ملک میں توانائی کے موجودہ بحران پر قابو پانے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش اور استعمال نا گزیر ہے اور پنجاب حکومت ایک پراجیکٹ کے تحت د یہی علاقوں میں ۰۰۵۱ فیملی سائزبائیو گیس پلانٹ شراکتی بنیادوں پر فراہم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور کاشتکاروں کو مجموعی طور پر ۷ کروڑ ۰۵ لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت و لائیواسٹاک ملک احمد علی اولکھ نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ”پاکستان میں بائیو گیس کے مواقع اور چیلنجز“ کے موضوع پرمنعقدہ سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔
ملک احمد علی اولکھ نے کہا کہ حکومت پنجاب دیہی علاقوں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بائیو گیس ڈرم بمع پائپ و چولہا مفت فراہم کر دی ہے اور کاشتکاروں کو فی پلانٹ ۰۵ ہزار روپے مالی اعانت دی جا رہی ہے جبکہ کنواں کسان خود تعمیر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے لوگوں کو ارزاں نرخوں پر توانائی حاصل ہو گی جبکہ گوبر کو بھی بہتر انداز میں تلف کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بائیو گیس پلانٹ سے گزر کر خارج ہونے والا استعمال شدہ گوبر بہترین نامیاتی کھاد کے طور پر بھی استعمال میں لایا جاسکے گا۔
ملک احمد علی اولکھ نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی ملکی ضروریات کا بتیس اعشاریہ آٹھ فیصد معدنی تیل، پنتالیس اعشاریہ چھ فیصد گیس، ۳۱ فیصد ہائیڈل پاور، ایک فیصد ایٹمی توانائی جبکہ ۶ فیصد کوئلے سے پورا کیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں توانائی کے متبادل ذرائع مثلاََ سورج، ہوا، بائیو گیس وغیرہ کو استعمال میں لانا نا گزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق متبادل ذرائع نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ ان سے ملک کی ۵۶ فیصد دیہی آبادی کی توانائی کی ضروریات بھی پوری کی جاسکتی ہیں۔






