خاتمے کا شکار زبانیں
By Technology Times at August 13, 2012 | 1:16 am | PrintA- Reset A+
تحریر: زہرا نقوی
زبان کی ماہئیت اور اس کے ارتقاء کے بارے میں غورو خوض ہر زمانے میں کیا جاتا ہے۔لسانیات ایسی سائنس ہے جو زبان کو اس کی داخلی ساخت کے اعتبار سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ زبان دو قسم کے مواد کے ذریعے اپنا کام انجام دیتی ہے، جن میں سے ایک اس کے صوتی اثرات اور دوسری قسم میں خیالات، سماجی صورتحال اور معنی آتے ہیں۔ لسانیات سے مراد معلومات کا وہ ذخیرہ ہے جو ماہر لسانیات کی تحقیقات کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔انسانی زندگی میں زبان کو بنیادی مقام حاصل ہے اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے زبان جوخدمات انجام دیتی ہے اور اپنے طریق کار کی جس طرح تنظیم کرتی ہے، ایک ماہر لسانیات اسے سائنسی انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
زبان ایسے خود اختیاری اور روائتی صوتی علامتوں کے نظام کو کہتے ہیں جو کوئی بھی انسان سماج میں اظہارخیال کیلئے استعمال کرتا ہے۔ زبان دراصل آوازوں کا مجموعہ اور ترتیب کا نام ہے۔ انسانی منہ سے ادا ہونے والے سب ہی کلمات چاہے وہ ایک لفظ کی صورت میں ہوں یا ایک جملہ کی شکل میں، اہم ہیں۔
تہذیبوں کے ارتقاء میں انسان نے بولنے والی زبان پہلے شروع کی اور تحریر کی ایجاد بہت بعد میں ہوئی۔ دنیا میں لکھنے کی نسبت بولنے والے لوگ زیادہ ہیں۔ جو لوگ پڑھنا یا لکھنا نہیں جانتے وہ زبان سے ہی اپنے کام انجام دیتے ہیں۔ اسکے علاوہ تحریر میں ہر بات شامل کرنا ممکن نہیں ہوتا، جیسے آوازوں کا ردوبدل، لہجہ کا اتار چڑھاؤ، جملہ کی نوعیت وغیرہ۔
زبان کی دوسری خاصیت یہ ہے کہ یہ خوداختیاری ہے۔ زبان میں شامل آوازوں کے سلسلے میں جو اشکال بنتی ہیں ان میں اور ان کے معنی میں کوئی فطری یا منطقی تعلق نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر یہ تعلق فطری یا منطقی ہوتا تو دنیا کی تمام زبانوں میں کوئی فرق نہ ہوتا، بلکہ سب ایک جیسی ہوتیں۔ اسی فرق نے ان تمام زبانوں میں ایک انفرادی کشش پیدا کردی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ دیگر ممالک کی زبان سیکھنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔
اس کے باوجود اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق آج دنیا بھر میں بولی جانیوالی ۷ ہزار زبانوں میں سے نصف کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس رپورٹ میں دنیا کے ۵ ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اقلیتی زبانیں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اقلیتی زبانوں کے ختم ہوجانے سے نہ صرف ایک زبان ختم ہوتی ہے، بلکہ اس زبان سے منسلک صدیوں پر محیط تہذیب و ثقافت، انسانی علوم اور تاریخ بھی صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ کسی بھی قوم کی اقدار شناسی اور اطوار کے جائزے کیلئے زبان بہترین مددگار ہے۔
دنیا میں جو زبانیں خطرے سے دوچار ہیں ان میں سے بعض ایسی ہیں جو صرف چند افراد ہی بول سکتے ہیں، جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق عالمی سطح پر ہر ۲ ہفتوں بعد ایک زبان متروک ہوجاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق دیہی علاقوں میں رہائش پذیر نوجوانوں کے شہری علاقوں میں نقل مکانی کرجانے اور وہاں جاکر انگریزی یا دیگر عالمی زبانیں سیکھنے سے زبانوں کے متروک ہونے کے رجحان میں تیزی آچکی ہے۔
زبانوں کو درپیش خطرے میں چند مخصوص خطے شامل ہیں جہاں علاقائی اور مقامی زبانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے ۵ نمایاں خطوں میں شمالی آسٹرلیا، مشرقی سائیبریا اور شمالی امریکہ کے بعض علاقے شامل ہیں۔
زبانوں کے ختم ہونے سے سب سے بڑا خدشہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے مقامی سطح پر پائے جانے والی معلومات کا خزانہ بھی جاتا رہتا ہے۔ مثلا پودوں، جانوروں، جگہوں کے نام اور ان کے بارے میں تحقیقی معلومات وغیرہ۔
زبان ایک خاص علاقے یا خطے میں جمع کی گئی معلومات اور حکمت کا اظہار کرتی ہے، جو کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہر زبان کا معلومات جمع کرنے کا ایک اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ جب لوگ کوئی دوسری زبان بولنا شروع کردیتے ہیں تو اپنی مادری زبان کی معلومات کا خاصا حصہ چھوڑ جاتے ہیں، کیونکہ ہر زبان دنیا کو دیکھنے کا ایک الگ ڈھنگ دیتی ہے۔
آج کل دم توڑتی زبانوں کو بچانے کی تحریک زور پکڑ رہی ہے، لیکن اس عمل میں کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہے جب نئی نسل کو اپنے والدین، دادا دادی یا نانی نانا کی زبانیں بولنے کی طرف راغب کیا جائے۔ اگر زبانوں کو خاتمے سے بچانے کی کوشش کی جائے تو اس سے معلومات کے زیاں کو روکا جاسکتا ہے۔
زندہ قومیں اپنی زبان کے حوالے سے ہی منفرد شناخت اور وجود رکھتی ہیں۔ جس زبان میں کسی قوم کا مذہبی، اخلاقی، سماجی، ثقافتی، علمی اور تاریخی ورثہ محفوظ ہوا، اگر اسی زبان کو آنے والی نسلیں بھلا دیں تو یقیناً اس قوم کے ذہن و قلب پر فتحیاب ہونا کسی بیرونی قوم کیلئے مشکل نہیں ہوگا۔
اسی لئے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ فاتحین جب بھی کسی شہر کو روندتے ہوئے داخل ہوتے ہیں تو سب سے پہلے وہاں کے تہذیبی، ثقافتی، تاریخی، علمی اور ادبی سرمائے کی لوٹ مار کا حکم دیتے ہیں، تاکہ مفتوح قوم کے پاس ایسی کوئی بنیاد اور انفرادی شناخت باقی نہ بچ سکے کہ وہ پھر سے اپنی جداگانہ حیثیت یا آذادی کیلئے بر سر پیکار ہوسکے۔
ماہرین کے نزدیک فیس بک، یو ٹیوب، حتٰی کہ ایس ایم ایس بھی دنیا میں آج بولی جانے والی تقریباً ۷ ہزار زبانوں کے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ اگر زبانوں کی تباہی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ان ۷ ہزار زبانوں میں سے تقریبا نصف ایسی ہیں جن کا کوئی بھی بولنے والا رواں صدی کے اختتام تک باقی نہیں رہے گا۔
دنیا میں گلوبلائزیشن پر تنقید کی جاتی ہے، لیکن جدید دنیا کی کچھ چیزیں، خصوصاً ڈیجیٹل ٹیکنولوجی دراصل قدیم دنیا کی مدد کررہی ہے۔ ماہرین لسانیات کے مطابق چھوٹی زبانیں اپنی آواز پھیلانے اور اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے سوشل میڈیا یا یو ٹیوب، ایس ایم ایس اور دیگر ٹیکنولوجی کا استعمال کررہی ہیں، جوکہ گلوبائزیشن کا دوسرا رخ ہے۔
ہم بہت سنتے ہیں کہ چھوٹی ثقافتوں پر گلوبلائزیشن کے منفی اثرات مرتبہ ہوتے ہیں، لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ ایک ایسی زبان، جسے ۵ یا ۵۰ افراد کسی دور دراز علاقے میں بولتے ہیں، ڈیجیٹل ٹیکنولوجی کی بدولت سے دنیا بھر میں اپنے سامعین اور بولنے والے تلاش کرسکتی ہے۔ حقیقتا دنیا کی تمام زبانیں باقی نہیں رہ سکتیں اور جب ان کے بولنے والے باقی نہیں رہیں گے تو یہ بھی خودبخود ختم ہوجائیں گی، لیکن ڈیجیٹل آلات اور پروگراموں نے ایسی بہت سی زبانوں کو نئی زندگی عطاء کی ہے ہے جو چند سال پہلے تک خاتمے کے کنارے پر تھیں۔
ٹیکنولوجی کی بہترین کاوشوں میں انٹرنیٹ، موبائل فون، فیس بک اور آئی فون شامل ہیں۔ انٹرنیٹ پر چیٹ، مختلف میسنجرز اور فیس بک کے استعمال سے آپ دنیا بھر میں جہاں چاہیں رابطہ کر سکتے ہیں اور یہی رابطے زبان کی ترویج کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
فیس بک ایک معروف سوشل ویب سائٹ ہے جو نظام پیغام رسانی کے چار طریقوں، یعنی ایس ایم ایس، انسٹنٹ میسجنگ، ای میل اور چیٹ کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ ٹائم لائن فیس بک کا ایک نیا فیچر ہے جو دراصل آپ کا پروفائل ہے۔ اس پر آپ اپنے بارے میں معلومات ثبت کرتے ہیں جنہیں پڑھ کر دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص آپ سے رابطہ کرسکتا ہے۔ رابطے کی صورت میں لازمی بات ہے کہ دو مختلف زبانوں کا استعمال کیا جائے گا اور اس طریقے سے زبان کی دو طرفہ منتقلی باآسانی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔
اس کے علاوہ جدید موبائل فونز میں بھی اب بہت سی زبانوں کو ایک جگہ اکٹھا کردیا گیا ہے اور اب ہم اپنے ہی فون میں مختلف زبانوں کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اس طریقے سے بھی زبانوں کے خاتمے کے خطرے سے کسی حد تک بچا جاسکتا ہے۔
ان تمام تحقیقات کے نتیجے میں ہم اس امر کا بآسانی اقرار کرسکتے ہیں کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی کی مدد سے دیگر مسائل کے علاوہ زبانوں کے خاتمے کے خطرے سے بھی نہ فقط بچا جاسکتا ہے بلکہ ان کو تحفظ بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔






