Warning: include_once(analyticstracking.php): failed to open stream: No such file or directory in /home2/technotimes/public_html/includes/header.php on line 19 Warning: include_once(): Failed opening 'analyticstracking.php' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home2/technotimes/public_html/includes/header.php on line 19

You Are At Technology Timesمضامینایوب ریسرچ سینٹر کی جدید اقسام آخری قسط


ایوب ریسرچ سینٹر کی جدید اقسام آخری قسط

پنجاب سیڈ کاؤنسل کی جانب سے زرعی اجناس اور پھلوں میں زیادہ پیداوار کی حامل ۴۰نئی اور جدید اقسام کی منظوری دی گئی ہے جن میں سے ۱۸ اقسام ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی جانب سے پلانٹ بریڈرز (زرعی ماہرین) کی زیرنگرانی خصوصی طور پر تیار کی گئی ہیں۔ پلانٹ بریڈرز کا خواب صرف یہ ہے کہ ہمارا ملک خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہوجائے اور پاکستان خود کفیل اس وقت ہوگا جب ہمارے کاشتکار ماحول، زمین اور ضروریات کے مطابق فصلوں کی جدید اقسام کاشت کر کے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کریں گے۔ ایک کسان زیادہ پیداوار اسی وقت لے سکتا ہے جب وہ کاشت کی جانیوالی قسم کے بارے میں آگاہی رکھتا ہوگا۔
زرعی فصلوں کی نئی منظور شدہ اقسام کی خصوصیات اور اوصاف جانتے ہوئے کسان اور زمیندار اپنے حالات و علاقہ کے مطابق ان کی بروقت کاشت ممکن بنا سکتے ہیں۔
ترشاوہ پھل یا میٹھے مالٹا کی قسم ’’سی آر آئی۔ سالوس ٹی آنا‘‘ بھی سٹرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سرگودھا کی دریافت کردہ ہے، جو دراصل ’’کامونا اورنج‘‘ کی بڈ میں اچانک وراثتی تبدیلی (میوٹیشن) کے باعث اس کی ہےئت بدلنے سے بنی ہے۔ اس کے روٹ اسٹاک کا نام ’’رف لیمن‘‘ اور سائن کا نام ’’سالوس ٹی آنا‘‘ ہے۔ اس قسم ’’سی آر آئی۔ سالوس ٹی آنا‘‘ کی اوسط عمر ۱۵ سے ۲۰ سال ہوتی ہے جبکہ اس پودے کے پتے چھوٹے اور ایک پھل میں ۱ یا ۲ بیج ہوتے ہیں۔ اسے سیڈ لیس کینو بھی کہا جا سکتا ہے جس کے ایک کینو کا وزن ۲۵۰ گرام سے بھی زائد دیکھا گیا ہے۔ اس کا پھل دسمبر میں پک کر تیار ہوجاتا ہے اور ایک درخت سے ۸۸ سے لے کر ۱۲۱ کلوگرام تک کینوؤں کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ میٹھے مالٹے ’’سی آر آئی۔ سالوس ٹی آنا‘‘ کی دریافت میں عبدالعزیز، شبیر احمد اور رضا سالک جیسے نمایاں ہارٹی کلچرسٹ شامل ہیں۔
آڑو کی نئی قسم ’’ارلی گرینڈ‘‘ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ، چکوال کی دریافت ہے۔ آڑو گرم علاقوں میں پایا جاتا ہے، جو اپنے گودے اور زبردست ذائقہ کی بدولت پھلوں کی ملکہ کے طور پر معروف ہے اور جس کا رنگ، ذائقہ اور خوشبو اپنی مثال آپ ہے۔ آڑو کس قسم ’’ارلی گرینڈ‘‘ کو ہارٹی کلچر پروجیکٹ کے تحت آج سے ۱۰ سال قبل امریکہ سے کچھ پودوں کی صورت جرم پلازم منگوا کر وادئ سوات میں کاشت کیا، جس کے بعد ہارٹی کلچر پروموشن کے تحت قلموں اور پیوندکاری کے ذریعے اس کی نسل آگے بڑھائی گئی۔ آڑو کے پودے پر فروری کے آخر میں پھول آجاتے ہیں، جو مئی یا جون میں پک جاتے ہیں۔ آڑو کی اس قسم کے ایک پھل کا وزن کم و بیش ۱۱۵ گرام تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فروٹ ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت ’’ارلی گرینڈ‘‘ کے آباواجداد کا ایک یونٹ ہارٹی کلچر ریسرچ اسٹیشن نوشہرہ (وادئ سون، خوشاب) میں قائم کیا گیا، جہاں سے بہترین پودوں کا انتخاب کیا جاتا رہا، جنہیں خوشاب، سرگودھا، چکوال اور راولپنڈی کی مختلف آب و ہوا میں کاشت کر کے اس نئی قسم کی پیداوار ی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا رہا۔ جب آڑو کی اس نئی قسم ’’ارلی گرینڈ‘‘ کے ایک پودے کی پیداوار ریکارڈ کی گئی تو وہ ایک من تھی، جو حیرت انگیز طور پر آڑو کی بین الاقوامی پیداوار کے برابر تھی۔ گذشتہ ۴ برسوں کی تحقیق کے مطابق ’’ارلی گرینڈ‘‘ کے پودوں کی اونچائی ۴۹ سینٹی میٹر، تنے کی موٹائی ۳۰ سے ۳۵ سینٹی میٹر، پھل کا وزن ۱۲۲ گرام، پھل کی جسامت ۸ء۶ سے ۹ء۷ سینٹی میٹر اور پیداوار فی پودا ۳۵ سے ۴۸ کلو گرام جبکہ ۶ء۹ سے ۲ء۱۳ ٹن فی ہیکٹر رہی۔ آڑو کی اس نئی قسم ’’ارلی گرینڈ‘‘ کی دریافت میں ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر عابد محمود، ملک بخش، محمد اشرف سمراہ اور ڈاکٹر نورالسلام شامل ہیں۔
آڑو کی ایک اور قسم ’’اے۔۶۶۹‘‘ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ، چکوال میں دریافت کی گئی، جس آباواجداد امریکہ میں مقیم ہیں۔ اسے فروٹ ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کے توسط سے وادئ سوات میں لایا گیا اور ہارٹی کلچر ریسرچ اسٹیشن نوشہرہ (وادئ سون، خوشاب) میں محفوظ کیا گیا۔ ان پودوں کی کٹنگ کے ذریعے زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ مینگورہ، سوات میں کئی برسوں تک مختلف آب و ہوا کے تحت چھان پھٹک کی گئی اور اس کی پیداوار کا بھی جائزہ لیا جاتا رہا ۔ آڑو کی یہ قسم ’’اے۔۶۶۹‘‘ ہر لحاظ سے دیگر اقسام پر فوقیت لے گئی، جس کا ایک پودا اوسطاََ ۳۰ سے ۴۰ کلوگرام تک پھل پیدا کرتا ہے۔ سال ۲۰۰۸ء سے لیکر ۲۰۱۱ء تک کی گئی تحقیق کے مطابق ’’اے۔۶۶۹‘‘ کا پودا لگ بھگ ۵ فٹ تک اونچا رہتا ہے۔ اس کے ایک پھل کا وزن ۱۷۸ گرام جبکہ جسامت کم و بیش ۸ سینٹی میٹر تک ہے۔ اس قسم کو موسم بہا ر میں فروری یا مارچ کے مہینوں میں کاشت کرنے سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے جبکہ پنجاب میں راولپنڈی، چکوال، جہلم، سرگودھا اور خوشاب کے اضلاع اس کی پیداوار کیلئے موزوں ترین خطے قرار دیئے گئے ہیں۔ آڑو کی اس نئی قسم ’’اے۔۶۶۹‘‘ کی دریافت میں ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر عابد محمود، ملک بخش اور محمد اشرف سمراہ کے نام شامل ہیں۔
آڑو کی نئی قسم ’’پلین فور‘‘ بھی بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال ہی کی دریافت کردہ ہے، جس کے آباء و اجداد بھی نسلاً امریکی تھے۔ اسے فروٹ ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت سب سے پہلے وادئ سوات میں کاشت کیا گے، جہاں سے بریڈنگ کے نظریہ چناؤ (سلیکشن) کے ذریعے بہترین پودوں کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ اس نئی قسم کے پودے کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے اور اس پر پھول فروری یا مارچ میں لگنا شروع ہوجاتے ہیں جو مئی سے جون تک پک کر تیار ہوجاتے ہیں۔ جلد پھل دینے والی آڑو کی قسم ’’پلین فور‘‘ پر گذشتہ ۴ برسوں کے دوران کی گئی تحقیق کے مطابق اس کے پودوں کی اونچائی ۸ء۳ سے ۲ء۴ میٹر تک ہوتی ہے جبکہ تنے کی موٹائی ۳ء۱۶ سے لیکر ۵ء۳۲ سینٹی میٹر تک رہتی ہے۔ اس کے پھل کا وزن ۱۲۲ سے ۱۲۸ گرام ہے اور جسامت میں اس کا پھل ۹ء۵ سے ۴ء۷ سینٹی میٹر تک ہوتا ہے۔ ایک پودے سے مجموعی طور پر ۳۰ سے ۴۵ کلوگرام پھل لگ جاتے ہیں جبکہ فی ہیکٹر پیداوار ۸ سے ۱۲ ٹن ریکارڈ کی گئی ہے، جن کے اعداد و شمار خوشاب کے ۱۰، سرگودھا کے ۵، چکوال کے ۸ اور راولپنڈی کے ۵ مختلف مقامات کی تحقیق سے حاصل کئے گئے ہیں۔ آڑو کی اس نئی قسم ’’پلین فور‘‘ کی دریافت میں ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر عابد محمود، ملک بخش اور محمد اشرف سمراہ شامل ہیں۔
آڑو کی جدید قسم ’’فلوریڈا کنگ‘‘ بھی بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی دریافت کردہ ہے، جو ’’پلین فور‘‘ کی طرح امریکی النسل ہے اور یہ بھی انہی تحقیقی مراحل سے گزری ہے جن سے ’’پلین فور‘‘ ہو گزری ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ’’فلوریڈا کنگ‘‘ نسل کا پودا ’’پلین فور‘‘ سے قدرے اونچا ہے اور اسکے تنے کی موٹائی بھی زیادہ ہے، لیکن پھل کا وزن کم ہے، جو تقریباً ۸۱ سے لے کر ۸ء۱۱۵ گرام تک ہے۔ اس نسل میں فی پودا پھلوں کی پیداوار ۴۶ کلو گرام تک ہے، جبکہ فی ہیکٹر پھل ۶ء۱۲ ٹن ہے۔ آڑو کی قسم ’’فلوریڈا کنگ‘‘ کی دریافت میں ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر عابد محمود، ملک بخش اور محمد اشرف سمراہ جیسے مایہ ناز زرعی سائنسدانوں کی شب و روز تحقیقی کاوشیں شامل ہیں۔
پھولوں کی اقسام میں ’’گولڈن بلوم‘‘ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی دریافت کردہ ہے۔ پاکستان میں عموماً گلاب اور گلاڈیولس قسم کے پھول مارکیٹ میں فروخت ہوتے ہیں، لیکن اعلیٰ قسم کے ’’ہائبرڈ ٹی‘‘ گلاب کی کاشت محدود پیمانے پر صرف بہار اور خزاں کے موسم میں ہوتی ہے، جبکہ سال کے باقی مہینوں میں یہ گلاب ناپید ہو جاتا ہے۔ گلاب کی طرح ’’رے نن کولس‘‘ نامی پھول اپنی پتیوں کی مخصوص ترتیب کی وجہ سے ایک قسم کا گلاب ہی کی طرح کا پھول ہے جو موسم سرما کے اواخر اور موسم بہار کے اوائل میں باآسانی مل جاتا ہے۔ یہ پھول دراصل گلاب کی کمی کے خلاء کو پورا کرتا ہے اور گلاب کے برعکس کانٹوں کے بغیر اور کئی رنگوں میں بھی پایا جاتا ہے، جسے گلدستوں میں بھی آسانی سے پرویا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ پھول کی نئی قسم ’’گولڈن بلوم‘‘ کو زر مبادلہ کے حصول کیلئے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر تصور کیا جا رہا ہے۔ تقریباً ۳۵ سینٹی میٹر اونچائی کے حامل اس پودے کا پھول ۸ سینٹی میٹر چوڑا ہوتا ہے اور فی پودا پھولوں کی تعداد ۲۲ ہوتی ہے۔ سال ۲۰۰۲ء میں ہالینڈ سے درآمد شدہ اس پھول کی مادہ ’’سی آر ۰۶۰۱‘‘ زرد رنگ کی اور اسکا نر ’’سی آر ۰۶۰۲‘‘ ہے۔ اس پھول کی کاشت کیلئے وسطی پنجاب اور پوٹھوہار کے علاقے معروف ہیں، جہاں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسکی کاشت زیادہ فائدہ مند رہتی ہے۔ پھولوں کی قسم ’’گولڈن بلوم‘‘ کی دریافت میں محمد آفتاب، محمد اظہر اقبال، ڈاکٹر عابد محمود اور ڈاکٹر محمد طارق کا نام سرفہرست ہے۔
پھول کی قسم ’’فلیمنگ بیوٹی‘‘ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی دریافت کردہ ہے۔ گلاب ہی کی طرح کا یہ پھول بھی سال ۲۰۰۲ء کے موسم سرما میں ہالینڈ سے درآمد کیا گیا تھا، جس کے جرم پلازم میں پھولوں کی نئی قسم ’’گولڈن بلوم‘‘ کے آباء و اجداد کی طرح ۶ رنگوں کے پھول یعنی سفید، زرد، سرخ، نارنجی، کریم اور گلابی پھولوں والے پودے شامل تھے۔ سال ۲۰۰۴ء میں ان پودوں کی نسل سے سرخ اور نارنجی پھولوں کے چناؤ کے بعد ۲۰۰۹ء تک اس پر تحقیقی تجربات ہوتے رہے، جس سے ’’فلیمنگ بیوٹی‘‘ کے نام سے بننے والے پودوں نے بہترین نتائج دیئے۔ خوبصورت قسم ’’فلیمنگ بیوٹی‘‘ کے پھول تقریباً ۱۵۳دن میں تیار ہوجاتے ہیں اور ایک پودے پر ۲۱ پھول آجاتے ہیں۔ اس قسم کی دریافت میں ڈاکٹر محمد طارق، محمد آفتاب، محمد اظہر اقبال، محمد صغیر اور ڈاکٹر عابد محمود جیسے نمایاں زرعی سائنسدان شامل ہیں۔
پھولوں کی ایک اور قسم ’’احمر بلوم‘‘ بھی بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی ہی دریافت ہے۔ یہ ’’رانن کولس‘‘ کے شوخ اور خوبصورت رنگوں سے مزین پھولوں کی ایک قسم ہے جو ایک باغ میں رنگوں کی قطار بنانے کے لئے لگائی جاتی ہے، تاکہ گراؤنڈ کی زیبائش اور آراستگی سے ماحول دیدہ زیب اور فضاء مسحور کن بنائی جاسکے۔ یہ پھول ’’احمر بلوم‘‘ سال ۲۰۰۲ء میں ہالینڈ سے درآمد کئے گئے اور ابتدائی طور پر انکی ماحول کے ساتھ مطابقت کا مشاہدہ کیا گیا۔ یہ پھول بھی بنیادی طور پر ۶ رنگوں میں دستیاب تھے، جنہیں ۲۰۰۴ء میں باہم کراس کرنے سے بیشمار ہائبرڈ معرض وجود میں آگئے۔ انہی میں سے ایک پھول اپنی زبردست کشش کی بدولت سب سے زیادہ نمایاں تھا، جسے ’’احمر بلوم‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ پھول دراصل گلابی (سی آر ۰۶۰۵) اور سرخ (سی آر ۰۶۰۲) کا کراس ہے۔ سال ۲۰۰۹ء تک ’’احمر بلوم‘‘ کی کا کردگی کا جائزہ لیا جاتا رہا، جس کے بعد ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۳ء تک اس کی مختلف علاقوں میں مطابقت دیکھی گئی، جس کے مطابق اس پر لگنے والے پھول ۱۶۴ دنوں میں مکمل ہوجاتے ہیں ہر پودے پر ۱۵ کے قریب پھول لگتے ہیں۔ خوبصورت رنگوں سے مزین پھول ’’احمر بلوم‘‘ کی دریافت میں ڈاکٹر نحمد طارق، محمد آفتاب، محمد اظہر اقبال، محمد صغیر، ڈاکٹر عابد محمود اور محمد شاہد اقبال جیسے عظیم زرعی سائنسدان شامل ہیں، جو اپنی اپنی فصلوں پر تحقیق کرنے کے علاوہ پھولوں کی تحقیق میں بھی دن رات مصروف عمل ہیں۔
قارئین، ایک بات طے ہے کہ ایک زرعی سائنسدان اگر ریسرچ پیپرز پر توجہ دے گا تو اس کے بیشمار مقالے سائنسی رسائل کی زینت بن سکتے ہیں، جس سے صرف اس کا اپنا فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن قوم کا نہیں۔ دوسری جانب اگر ایک زرعی سائنسدان اپنی توجہ کسی بھی فصل کی نئی قسم دریافت کرنے میں صرف کرے گا تو اس میں ذاتی فائدہ شاید نہ ہو لیکن ایسا سائنسدان ملک کو نہ صرف خود کفالت کی شاہراہ پر ڈال سکتا ہے بلکہ قوم کے کروڑوں لوگوں کی بھوک مٹانے میں بھی پیش پیش رہتا ہے۔
(ختم شد


--

Short Link: http://technologytimes.pk/post.php?id=5862

Tags:

More Stories:

Comments On This Post

    No Comments Yet…

Leave a Reply