Warning: include_once(analyticstracking.php): failed to open stream: No such file or directory in /home2/technotimes/public_html/includes/header.php on line 19 Warning: include_once(): Failed opening 'analyticstracking.php' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home2/technotimes/public_html/includes/header.php on line 19

You Are At Technology Timesمضامینکیلا، بیش بہا فوائد کا حامل پھل


کیلا، بیش بہا فوائد کا حامل پھل

کیلے کا شمار لذیذ ترین پھلوں میں ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں شاید آم کے بعد سب سے زیادہ کھایا جانے والا پھل یہی ہے۔ کیلا ایک خوش ذائقہ، خوشبودار، صحت بخش اور شوق سے کھایا جانے والا پھل ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس حضرت انسان زمانہ قبل ازمسیح سے استعمال کر رہے ہیں۔ روایات کے مطابق کیلے کو سکندر اعظم نے دریائے سندھ کی وادی میں کاشت ہوتے دیکھا تھا، لیکن اب یہ متعدد ملکوں کے میدانی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ کیلے کو سندھی زیان میں کیلو، عربی میں موز، بنگالی میں کلہ اور انگریزی میں بنینا کہا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ جہاں کیلے کا درخت ہو وہاں سانپ بھی نہیں آتا۔
کیلا کھانے سے انسان بہت سی بیماریوں سے بچ سکتا ہے، جن میں ذہنی تناؤ، بلند فشار خون، فالج، ذہنی صلاحیتوں میں کمی اور نیند کے مسائل سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کیلے میں ۳ طرح کی قدرتی شکر پائی جاتی ہے، جن میں سیکروز، فروکٹوز اور گلوکوز شامل ہے، جبکہ اس میں ریشے (فائبر) بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس لذیذ پھل کو فوری توانائی پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
کیلا عموماً کھانا کھانے کے بعد استعمال کرنا چاہئے اور اگر اسے کھانے کے بعد دودھ بھی پی لیا جائے تو جسمانی نشوونماء میں بہت مدد ملتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ۲ کیلے کھانے سے ۹۰ منٹ کے لئے بھرپور توانائی مل جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ایتھلیٹس اسے اپنی خوراک کا اہم جزو بنائے رکھتے ہیں، لیکن کیلے کے دیگر بہت سے فوائد بھی ہیں جو بظاہر ہمیں نہیں معلوم۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلا ذہنی تناؤ (ڈیپریشن) سے نمٹنے کی صلاحیت دیتا ہے، لہٰذا جن لوگوں کو یہ مرض لاحق ہے وہ کیلا کھا کر اس کیفیت سے نکل سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ کیلے میں پائے جانے والا ’’ٹرائیپتو فین‘‘ نامی پروٹین ہے، جو انسان کو سکون دیتا ہے اور موڈ کو بہتر بناتا ہے۔
کیلے میں غذائی اجزاء ۸۰ فیصد فیصد ہوتے ہیں۔ اس میں تقریباً تین چوتھائی حصے پانی اور پانچواں حصہ شکر کے علاوہ نشاستہ، حل پذیر ریشہ، معدنیات اور حیاتین ہوتے ہیں۔ نشاستہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کیلا کھانے سے کام کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جبکہ اس میں گوشت بنانے والا اہم جزو نائٹروجن بھی زیادہ ہوتا ہے۔ کیلے میں کیلشیئم، میگنیشیم، فاسفورس، گندھک، لوہا اور تانبا بھی موجود ہوتا ہے جبکہ اسٹرابری کے بعد سب سے زیادہ فولاد کیلے میں پایا جاتا ہے۔ کیلے میں پروٹین اور چربی بہت کم مقدار میں پائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ کیلے میں موجود فولاد (آئرن) کی وجہ سے جسم میں ہیموگلوبین زیادہ بنتا ہے اور نیند لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جبکہ کیلے کا ایک سب سے بڑا فائدہ فشار خون (بلڈ پریشر) سے لڑنے کی قوت مدافعت بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کیلے میں نمک نہیں ہوتا بلکہ وافر مقدار میں پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو فشار خون کو قابو میں رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیلے کی مدد سے فالج سے بچنا بھی ممکن ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ کیلے سے انسانی ذہن کی مدافعت کو بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
اطباء کی رائے کے مطابق کیلے میں ٹھوس غذا زیادہ اور پانی کم ہوتا ہے۔ یہ گرمی اور سردی کے موسم میں معتدل اور دوسرے درجے میں تر ہے، جبکہ بعض حکماء کے نزدیک گرم تر ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں کیلئے کی متعدد اقسام کاشت کی جاتی ہیں اور ان میں سے ہر قسم کا اپنا الگ ذائقہ، غذائی خصوصیت اور قوت بخش معیار ہوتا ہے۔ ان میں سے چند مشہور اقسام چتی دار کیلا، ہری چھال کا کیلا، بمبئی کیلا، سون کیلا، رائے کیلا، رام کیلا، مال ٹھوک، چھپا، انو پان، ڈھاکا جنگلی، بیجا، کوکنی، سہلٹ، چینیہ، ہگیرا، وغیرہ ہیں۔ سائنسی تجزیہ کے مطابق آدھا کلو کیلے میں ۴۵۰ حرارے ہوتے ہیں۔
کیلے میں موجود صحت بخش شکر کی کثرت اسے زود ہضم بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ تھکان محسوس کریں، ان کے لئے کیلا بہت مفید چیز ہے۔ کیلا جسم میں آیوڈین کی کمی دور کرتا ہے، اسلئے آیوڈین کی کمی سے لاحق ہونے والی تمام امراض میں بھی مفید ہے۔ پکے ہوئے کیلے میں نشاستہ اور فروکٹوز کی مقدار بھی خاصی زیادہ ہوتی ہے۔
حیاتین (وٹامن) کے لحاظ سے کیلا مفید ترین پھلوں میں شامل ہے، جس میں وٹامن اے، بی اور سی بکثرت پائے جاتے ہیں۔ وٹامن سی کی وجہ سے کیلا مسوڑھوں کے لئے مفید ہے، جبکہ اس میں وٹامن ڈی اور وٹامن ای بھی پائے جاتے ہیں۔ کیلے میں اس میں نشاستہ چونکہ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، لہٰذا بچوں کے لئے کیلا انتہائی مفید ہے۔ اطباء کے مطابق کیلے کا سفوف دودھ میں ملا کر بچوں کو دیا جائے تو یہ انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جن بچوں پر اس خوراک کا تجربہ کیا گیا، وہ ۶ ماہ کے اندر ہی نہ صرف اپنے قدوقامت اور جسمانی لحاظ سے دیگر بچوں سے بڑھ گئے، بلکہ ان کے دانت بھی سفید، چمک دار اور مضبوط ہوگئے۔ جن بچوں سے ماں کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو انہیں اگر ایک عدد پکے ہوئے کیلے کا نصف گودا ضرورت کے مطابق دودھ میں ملا کر استعمال کرایا جائے تو بچہ دیگر غذاؤں سے بے نیاز ہوجاتا ہے، کیونکہ کیلے میں موجود غذائی اجزاء بچے کی پرورش کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو دست آنے کی شکایت میں بھی کیلے کا استعمال مفید ہے۔
ماہرین طب کیلے کے پھل، جڑ اور پتوں وغیرہ سمیت تمام بطور دوا استعمال کرتے ہیں۔ کیلا خشک کھانسی اور گلے کی خشکی دور کرتا ہے اور اندرونی یا بیرونی کسی بھی مقام سے خون آنے کو روکتا ہے۔ کیلا دل کو فرحت دیتا اور خون کی کمی دور کرتا ہے، جبکہ مسلسل کھانے سے کیلا بدن موٹا بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جسمانی کمزوری میں کیلا کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ جلے ہوئے مقام پر کیلے کا لیپ لگانا جلن، سوزش اور درد کو دور کرتا ہے اور اس کے چھلکے کے اندر کے گودے کے لیپ سے زخم اور پھوڑے پھنسیاں بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔


--

Short Link: http://technologytimes.pk/post.php?id=5859

Tags:

More Stories:

Comments On This Post

    No Comments Yet…

Leave a Reply